سندھ پولیس کے اہم شعبوں میں اچانک تبدیلیاں

Posted by on Jul 01, 2011 | Comments Off on سندھ پولیس کے اہم شعبوں میں اچانک تبدیلیاں

متحدہ قومی موومنٹ کی حکومت سے علیحدگی کے اعلان سے تین ہی دن بعد اس اچانک انتظامی فیصلے کو سیاسی حلقے بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔حکومت سندھ نے ایک اچانک پیشرفت کے تحت کراچی پولیس میں انتہائی اعلی سطح پر تبدیلیاں کی ہیں اور کراچی کے قریبا بارہ ڈی آئی جی بدل دیئے۔ اس اچانک ہونے والے انتظامی فیصلے کے تحت شہر میں پولیس کے تمام سربراہان سمیت سندھ پولیس کے کئی اہم عہدوں پر تبدیلیاں کردی گئی ہیں۔
ان تبدیلیوں کے تحت شہر کے غربی حصے میں تعینات ڈی آئی جی ویسٹ سلطان خواجہ کو تبدیل کرکے ان کی جگہ عمران یعقوب کو ڈی آئی جی ویسٹ تعینات کیا گیا ہے۔ سلطان خواجہ کو ڈی آئی جی سندھ ریزرو پولیس (ایس آر پی) بنایا گیا ہے۔
جنوبی حصے کے ڈی آئی جی ساتھ اقبال محمود کی جگہ کمانڈر شوکت علی شاہ کو ڈی آئی جی ساتھ تعینات کردیا گیا ہے، جبکہ اقبال محمود کو آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) بنا دیا گیا۔
ڈی آئی جی طاہر نوید کو ایسٹ کراچی سے ڈی آئی جی پولیس ٹریننگ کالج شہداد پور تعینات کردیا گیا ہے جبکہ غلام حیدر جمالی کو ڈی آئی جی اسپیشل برانچ (سیکیورٹی) تعینات کردیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی فلک خورشید کو ایڈیشنل آئی جی سندھ، ڈی آئی جی شبیر شیخ کو ڈی آئی جی کرائم انویسٹیگیشنز ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) اور ڈی آئی جی سردار عبدالمجید دستی کو ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز سندھ مقرر کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز غلام نبی میمن کو بھی او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔
سندھ پولیس میں اتنے بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کم کم ہی کی جاتی ہیں۔ کم سے کم ماضی قریب میں ایسی مثالیں مشکل سے ملیں گی۔
بعض سینیئر پولیس افسران کا خیال ہے کہ نئے آئی جی سندھ واجد درانی اپنی ٹیم لائے ہیں کیونکہ وہ پہلے سے تعینات کئی افسران کے ساتھ کام کرتے ہوئے اتنی آسانی محسوس نہیں کررہے ہوں گے، جتنی کہ ضرورت ہوتی ہے۔
مگر ان تبدیلیوں کو اہمیت دینے والے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں مختلف ہیں۔ ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ حکمراں اتحاد سے علیحدگی اختیار کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ اب حزب اختلاف کا حصہ بن گئی ہے، لہذا یہ تبدیلیاں کسی نئے سیاسی چیلنج سے نمٹنے کی غرض سے شروع ہونے والی نئی سیاسی گیم کا حصہ ہوسکتی ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here