سندھ: بجٹ میں سیلاب سے متاثرہ علاقے محروم

Posted by on Jun 12, 2012 | Comments Off on سندھ: بجٹ میں سیلاب سے متاثرہ علاقے محروم

سندھ کے صوبائی بجٹ میں حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت اور اتحادی جماعتوں کے زیر اثر اضلاع کے لیے خصوصی پیکیج رکھے گئے ہیں جبکہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقے اس سے محروم رہے ہیں۔

:سیلاب سے متاثرہ علاقے

سندھ حکومت نے سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ نہری نظام کی بحالی کے لیے منصوبہ سازی کی ہے، جس کے تحت ایل بی او ڈی اور کوٹری ڈرینیج نیٹ ورک کے لیے تین ارب روپے مختص کیے ہیں اور مختلف نہروں کے پشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے سو ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ چار سو ملین روپے کی لاگت سے بندوں اور نہروں کے لیے سندھ ہنگامی تعمیرنو کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

سندھ حکومت نے سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ نہری نظام کی بحالی کے لیے منصوبہ سازی کی ہے، جس کے تحت ایل بی او ڈی اور کوٹری ڈرینیج نیٹ ورک کے لیے تین ارب روپے مختص کیے ہیں اور مختلف نہروں کے پشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے سو ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ چار سو ملین روپے کی لاگت سے بندوں اور نہروں کے لیے سندھ ہنگامی تعمیرنو کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاھ نے سندھ اسبلی میں پیر کو سال دو ہزار بارہ اور تیرہ کا بجٹ پیش کیا، جس کا کل حجم 577.98 ارب روپے ہے، جس میں سالانہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 181 ارب روپے، وفاقی منصوبوں کے لیے 14.5 ارب رپے اور بیرونی منصوبوں کی معاونت کے لیے 35.7ارب رپے مختص کیے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے پبلک پرائیوٹ شراکت داری کے ذریعے نوری آباد میں سو میگا واٹ بجلی کا منصوبہ بنایا ہے، سوئی سدرن گیس کے ساتھ گیس کی فراہمی کے مذاکرات آخری مراحل میں ہیں، یہ بجلی گھر نوری آباد کی صنعتوں کو بجلی فراہم کرے گا۔

فاقی حکومت کی طرح صوبائی حکومت نے بھی سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں بیس فیصد ایڈہاک رلیف الاؤنس کا اضافہ کیا ہے۔

صوبائی حکومت نے تعلیم کے لیے ایک سو بارہ ارب رپے مختص کیے ہیں۔

ٹھٹہ اور میرپور خاص میں انجینیئرنگ کالج، سکھر میں وومین یونیورسٹی، ہالہ میں صوفی ازم اور ماڈرن یونیورسٹی کا قیام شامل ہے۔

اس کے علاوہ التویٰ کا شکار کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے لے 1.55 ارب ڈالرز رکھے گئے ہیں، یہ رقم تجاوزات ہٹانے اور زمینوں کے تصفیے کے لیے ادا کی جائیگی۔ یہ دو طرفہ ٹریک دو ہزار سولہ میں تکمیل تک پہنچے گا۔

سید مراد علی شاہ نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ کسانوں کو پندرہ ہزار ٹریکٹروں، مختلف اقسام کے زرعی آلات اور ساڑھے چار سو ٹیوب ویلز کی فراہمی پر رعایت دی جائیگی۔ اس کے علاوہ سندھ بینک چار بلین کی لاگت سے چھوٹے کسانوں کو سات فیصد سود کی رعایت دیتے ہوئے زرعی قرضہ فراہم کرے گا۔

حیدرآباد، لاڑکانہ، بینظیر آباد اور سکھر کی ترقی کے منصوبوں کے لیے خصوصی پیکج بنائے گئے ہیں، جس میں فلائی اوور، پارکس اور پانی کی نکاسی کے منصوبوں کی تعمیر شامل ہے۔

سرکاری ملازمتوں میں خواتین کا کوٹہ پانچ فیصد سے بڑھا کر پچیس فیصد کر دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق ورکنگ وومین کی حوصلہ افزائی کے لیے بچوں کے لیے ڈے کیئر سینٹر قائم کیے جائیں گے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here