سمندری کٹاؤ، مچھیرے مشکلات کا شکار

Posted by on Jun 19, 2012 | Comments Off on سمندری کٹاؤ، مچھیرے مشکلات کا شکار

صوبہ سندھ کےعلاقے کے ٹی بندر میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث بڑی تیزی سے سمندری کٹاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے باعث مقامی مچھرے شدید مشکلات سے دوچار ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سمندری کٹاؤ کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر تیمرز کے جنگلات لگائے جائیں۔ صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ کے تحصیل کے ٹی بندر میں کئی دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔

علاقے کے مکینوں کا کہناہے کہ میٹا یا دریائی پانی نہ ملنے کے باعث سمندر بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

جس کے نتیجے میں بہت سے علاقوں سے لوگ ہجرت کر کے کراچی اور سندھ کے دیگر بڑے شہروں میں آباد ہونے پرمجبور ہوچکے ہیں۔

کیونکہ ماضی میں اس علاقے میں موجود تمیرز کے جنگلات اب صرف دس فیصد رہ گئے ہیں۔

گذشتہ روز ملک بھر سے صحافیوں ایک ٹیم نے کے ٹی بندر کا دورہ کیا۔

جبکہ مقامی مچھیروں کا کہنا ہے کہ اگرحکومت نے تیمرز کے جنگلا ت کے تحفظ کے لیے اقدامات نہ کیے تو آنے والے سالوں میں مزید کٹاؤ کا خطرہ ہے۔

ان مچھیروں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ کے ٹی بندر کے علاقے میں بھی لوگوں کو تعلم اور صحت جیسے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ تیمرز کے جنگلات کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ سمندری کٹاؤ روکنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع بھی میسر آ سکیں۔

سندھ اور بلوچستان کے سمندری حدود میں تحفظ ماحولیات کی عالمی تنظیم آئی یوسی این نے سال دو ہزار نو میں لاکھوں کی تعداد میں تیمرز کے جنگلات لگائے تھے لیکن تحفظ نہ ہونے کے باعث اب بہت سے جنگلات کٹ چکے ہیں۔

صحافیوں کو بعد میں ایک کشتی کے ذریعے کارو گاؤں لے جایا گیا جہاں چالیس گھر تھے اور آبادی تقربیاً تین سو کے قریب تھی۔

لیکن اس آبادی میں شامل بوڑھے ، بچے اور خواتین اپنی استعاعت کے مطابق تیمرز کے جنگلات لگانے میں مصروف تھیں۔

گارو گاؤں کے علاوہ آس پاس کے کئی دیہات ایسے ہیں جہاں بچوں کے لیے سکول ہے اور نہ ہی کوئی ہسپتال موجود ہے۔

اس موقع پر جنگلی حیات کے تحفظ کے عالمی ادارے وائلڈ لائف کے مقامی کوارڈینیٹر طاہرعباسی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سمندری کٹاؤ کو روکنے کے لیے لازمی ہے کہ حکومت پانی کی تقسیم کا ایک نیا معاہدہ کرے جس میں چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ سمندر کو بھی اپنے حصے کا پانی دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جب تک سمندر میں میٹا پانی نہیں چھوڑا جائے گا اس وقت تک پاکستان کے ساحلی علاقوں میں سمندری حیات کی پرورش ناممکن ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here