سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بحث چھڑ گئی

Posted by on Jun 20, 2012 | Comments Off on سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بحث چھڑ گئی

پاکستان کی عدالتِ عظمٰی کے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے فیصلے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بحث چھڑ گئی ہے۔

س بحث میں بہت سے دلچسپ اور اہمیت کے حامل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے سربراہ کون ہیں؟ کیا آج کے روز پاکستان کا کوئی رہنماء نہیں؟ کیا اس عدالتی فیصلے سے جمہوری نظام کے تسلسل کو نقصان پہچا ہے؟ مختلف سیاسی حلقے اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں؟

جہاں ایک طرف عدالتی فیصلے کی حمایت میں تنز و مزاح سے بھر پور پیغامات بھیجے جا رہے ہیں، وہیں اس فیصلے کے خلاف بہت سے لوگ غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

:ٹوئٹر پر بھیجے گئے چند پیغامات

پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے فرزند شہریار تاثیر کا کہنا تھا ’پاکستان کے چیف جسٹس نے وزیرِ اعظم گیلانی کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کے خلاف عدالتی بغاوت کی ہے۔‘

دوسری جانب سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے فیصلے کے بارے میں کہا ’ہم سپریم کورٹ کے گیلانی کی نااہلی کے فیصلے کی واضح الفاظ میں حمایت کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی سپریم کورٹ اور اس کے فیصلوں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔‘

سینیئر صحافی کامران خان لکھتے ہیں ’تاریک ترین گیلانی دور ختم ہوگیا۔۔۔مرحبا سپریم کورٹ!‘

ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی رہنماء حیدر عباس رضوی نے کہا اداروں کے مابین تصادم سے ہر ممکن طریقے سے بچا جائے۔

وزیراعظم کی صاحبزادی فضہ بتول گیلانی اپنے والد کی نا اہلی پر کہا ’پاکستان کو عدالتی بغاوت کا سامنا ہے اور یہ دن پاکستان کے لیے ایک سیاہ دن ہے‘۔

آصفہ بھٹو زرداری نے وزیرِاعظم گیلانی کی حمایت میں کہا ’میں اسی طرح آپ کے ساتھ کھڑی ہوں گی جس طرح آپ محترمہ بے نظیر بھٹو اور صدر زرداری کے ساتھ کھڑے تھے‘۔

مسلم نون کے رکنِ اسمبلی خرم دستگیر خان نے ایک دلچسپ نکتہ اٹھایا ’چونکہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی گئی، یہ فیصلہ حتمی ہو گیا ہے‘۔

ٹوئٹر پر عام شہریوں نے بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

علی فاروق کا خیال ہے کہ حکومت کی مدت پانچ نہیں چار سال ہونا چاہیے۔ پاکستانی اپنے منتخب نمائندوں سے جلد ہی تھک جاتے ہیں‘۔

دو ہزار تیرہ تک وزیراعظم

“جنابِ سید یوسف رضا گیلانی، میں اٹھارہ فروری سنہ دو ہزار تیرہ تک آپ کو وزیرِ اعظم ہی پکاروں گا کیونکہ میں نے آپ کو اپنا ووٹ دیا تھا”

ریاض علی توری

نادر الادروس نے تنز کیا کہ ’دیکھو گیلانی چلا گیا اور پھر بھی بجلی بحال نہیں ہوئی‘۔

عمران نامی ایک صارف نے کہا ’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ آخری بار ہے کہ گیلانی صاحب کسی عہدے پر فائز ہوں۔ اب انہیں چاہیے کہ وہ ملک سے لوٹا ہوا پیسہ واپس کریں۔‘

ریاض علی توری نے وزیرِاعظم گیلانی کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’جنابِ سید یوسف رضا گیلانی، میں اٹھارہ فروری سنہ دو ہزار تیرہ تک آپ کو وزیرِ اعظم ہی پکاروں گا کیونکہ میں نے آپ کو اپنا ووٹ دیا تھا‘۔

ماہو بلی نامی ایک اور صارف نے وزیرِ اعظم کے ایک انٹرویو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’گیلانی صاحب کو اپنے سنہری الفاظ کی پروی کرنی چاہیے۔۔۔ تو وہ جاتے کیوں نہیں!‘۔

امانت علی نے اس مسئلے کا خوب حل پیش کیا ’گیلانی صاحب کو صدر کا ایسا مشیر مقرر کر دیا جانا چاہیے جس کو وزیرِ اعظم والے تمام اختیارات حاصل ہوں۔۔۔ مسئلہ جڑ سے ختم ہو جائے گا‘۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here