’سرجیت کے بعد سربجیت کو بھی رہا کریں‘

Posted by on Jun 27, 2012 | Comments Off on ’سرجیت کے بعد سربجیت کو بھی رہا کریں‘

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں منگل کی شام یہ خبر کئی گھنٹے تک گردش کرتی رہی تھی کہ صدرِ پاکستان نے جاسوسی اور بم دھماکوں کے مجرم سربجیت کی رحم کی اپیل منظور کر لی ہے۔

بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے پاکستان کی جانب سے بھارتی قیدی سرجیت سنگھ کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستانی جیل میں سزائے موت کے منتظر قیدی سربجیت سنگھ کو رہا کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔

ان اطلاعات پر بھارتی وزیرخارجہ نے صدرِ پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

تاہم منگل کو رات گئے صدر کے ترجمان نے وضاحت کی کہ رہا کیا جانے والا شخص سربجیت سنگھ نہیں بلکہ سرجیت سنگھ ہے اور اس کی رہائی سے صدر کا کوئی تعلق نہیں بلکہ انہیں مدتِ قید مکمل ہونے پر رہا کیا جانا ہے۔

اس پر بدھ کی صبح دلی میں میڈیا سے بات چيت میں ایس ایم کرشنا نے کہا کہ وہ سرجیت سنگھ کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور پاکستان سے پھر اپیل کرتے کہ وہ سربجیت سنگھ کو بھی رہا کر دے۔

انہوں نے کہا ’ہم نے پاکستان میں قید سرجیت سنگھ کی رہائي سے متعلق میڈیا میں خبریں دیکھی ہیں۔ ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور پاکستانی صدر آصف علی زرداری سے سربجیت سنگھ کی بھی رہائي کی پھر سے درخواست کرتے ہیں‘۔

بھارتی وزیرخارجہ نے کہا بھارتی حکومت سربجیت سنگھ کے معاملے کو کئی مواقع پر کافی عرصے سے اٹھاتی رہی ہے اور پاکستان سے اس مسئلے کو انسانی بنیادوں پر غور کرنے کو کہتی رہی ہے۔

“ہم نے پاکستان میں قید سرجیت سنگھ کی رہائي سے متعلق میڈیا میں خبروں کو دیکھا ہے۔۔۔ ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور پاکستانی صدر آصف علی زرداری سے سربجیت سنگھ کی بھی رہائي کی پھر سے درخواست کرتے ہیں۔”

ایس ایم کرشنا

’میں پاکستان کی حکومت سے ان تمام بھارتی شہریوں کی رہائی کی اپیل کرتا ہوں جو جیل میں اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔ ان بھارتی شہریوں کی بھی رہائی کی اپیل کرتا ہوں جو جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں‘۔

منگل کی شام کو جب یہ خبر آئی کہ صدر آصف علی زرداری نے سربیجت سنگھ کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے تو بھارت کے سبھی ٹی وی چينلوں پر یہ خبر سرخیوں میں تھی اور ہر طرف خوشیوں کا ماحول تھا۔

لیکن بدھ کی صبح ہی سے بھارتی ذرائع ابلاغ میں یہ سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ آخر پاکستانی حکام نے ایسا کیوں کیا ہوگا۔ بیشتر ٹی وی چینلز یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستانی حکام نے دانستہ طور پر اس مسئلے پر’تماشہ کیا ہے‘۔

اس سے متعلق بھارتی وزیرخارجہ سے بہت سے سوال بھی کیے گئے لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہیں دیا۔

ٹیلی وییژن چینلز پر مبصر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شاید پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے اپنا فیصلہ فوج کے دباؤ میں واپس لیا ہوگا اور پاکستان وعدے سے مکر گيا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here