سربجیت نہیں سرجیت: ’ب‘ نے مروا دیا

Posted by on Jun 28, 2012 | Comments Off on سربجیت نہیں سرجیت: ’ب‘ نے مروا دیا

یار یہ ’ب‘ نے مروا دیا۔ رہائی پانے والا سربجیت سنگھ نہیں بلکہ ’ب‘کے فرق کے ساتھ سرجیت سنگھ نکلے۔

خبروں کے لیے ایک اچھا بھلا ایشو مل گیا تھا۔ کم از کم کوئی تین چار دن کے لیے خبروں کا بندوبست ہوچکا تھا لیکن جب صبح ہوئی تو خبروں کی دنیا ہی تبدیل تھی۔

صدارتی ترجمان کی تردید سے معلوم ہوا کہ سرجیت سنگھ کی رہائی عمل میں آئی ہے اور اس رہائی کا ایوانِ صدر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ویسے تو تمام انسان برابر ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ سربجیت سنگھ کی جو خبری اہمیت ہے وہ سچا سنگھ کے بیٹے سرجیت سنگھ میں کہاں؟

پاکستان اور انڈیا کے ٹی وی چینلز نے اپنے اپنے انداز میں خبریں اور رپورٹیں نشر کرنا شروع کردیں۔ بھارتی ٹی وی چینلز نے سربجیت سنگھ کے گھر میں ڈھول تاشے اور آتش بازی میں ڈانس بھنگڑا دکھایا۔

پاکستان کے ٹی وی چینلوں نے سربجیت سنگھ کے اعتراف گناہ پر مبنی مبینہ ویڈیو چلانا شروع کردی۔ ٹاک شو ہوئے، حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے اپنے اپنے تبصرے شروع کردیے۔

میڈیا نے جو خبری منصوبہ بندی کرنا تھی اس کے بارے میں بھی سن لیں۔

خبری منصوبہ سازوں نے سوچا ہوگا کہ سربجیت سنگھ پر جن بم دھماکوں کا الزام ہے ان کے ورثا کے انٹرویو لینے ہیں اور بعض نے سوچا ہوگا کہ ان سے یہ سوال بھی کرنا ہے کہ انہیں کیسے علم ہوا کہ سربجیت سنگھ ہی اصل ملزم ہے۔

عام لوگوں کی رائے جو عام طور پر اس انٹرویو سے شروع ہوتی ہے کہ سربجیت سنگھ کی رہائی پر پاکستانی شہریوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سربجیت سنگھ کے وکیل کا انٹرویو، کوئی رشتہ دار پاکستان آئے ہیں تو ان سے بات چیت کی کوشش، پھر اس کی رہائی کے موقع کی کوریج وغیرہ وغیرہ۔

ویسے تو ریمنڈ ڈیوس جیسا قتل کا ملزم رہا ہوسکتا ہے تو سربجیت سنگھ کی رہائی کونسی بڑی بات ہے۔ لیکن آدھی رات کو یہ اطلاع ملی کہ خبر جھوٹی ہے اور تمام ملبہ ’ب‘پر ڈال دیا گیا۔

شاباش کے مستحق

اینکرز کا ’کمال‘ یہ ہے کہ انہوں نے خبر کی تصدیق سے پہلے ہی اس پر ٹاک شوز بھی کرڈالے،وہ سیاستدان بھی ’شاباش کے مستحق‘ ہیں جنہوں اس رہائی کی حمایت اور مخالفت میں بیانات دے کر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی کوشش کی۔

اس بات کا ادراک ہونے کے باوجود کہ بریکنگ نیوز کی دوڑ میں بہت سی سنگین غلطیاں ہوجاتی ہیں، رپورٹروں پردباؤ برقرار ہے کہ خبر سب سے پہلے فائل کردو۔ نجانے اس بریکنگ نیوز کلچر کا رونا کب تک رویا جاتا رہے گا۔

ایک قتل کی معلومات حاصل کرنے کے دوران متعلقہ تھانے کے محرر نےفون پر بتایا کہ مقتول قلفیوں کے ڈھانچے بناتا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ قلفیوں کے ڈھانچے نہیں سانچے ہوتے ہیں۔محرر صاحب نے کہا کہ وہی بناتا ہوگا۔

بہر حال اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہوگا کہ ایک چینل نے اپنے ذرائع سے خبر دے دی اور باقی کے رپورٹرز پر دباؤ آگیا اور ایک ایک کرکے سب نے وہ خبر نشر کردی۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ زیادہ بڑی غلطی کس کی ہے؟ کیا اس رپورٹر کی جس نے سب سے پہلے اپنے ذرائع ظاہر کیے بغیر خبر جاری کردی یا پھر وہ رپورٹرز ذمہ دار ہیں جنہوں نے دباؤ میں آکر تصدیق کیے بغیر اپنے اپنے چینلز پر خبریں جاری کردیں۔

سوچنے کا کام آپ کریں میں اتنی دیر میں اپنے اخباری دورملازمت کا ایک پرانا واقعہ بیان کردوں۔

اگلے دن میرے اخبار میں خبر تھی کہ ’قلفیوں کے سانچے بنانے والا قتل‘ اور باقیوں کی خبر تھی کہ’ کرسیوں کے ڈھانچے بنانے والا قتل‘۔

تو ہوسکتا ہے کہ سربجیت سنگھ والے معاملے میں رپورٹر بھائی سے ’ب‘ کی غلطی ہوگئی ہو اور باقی سب بھیڑچال تھی۔

اینکرز کا ’کمال‘ یہ ہے کہ انہوں نے خبر کی تصدیق سے پہلے ہی اس پر ٹاک شوز بھی کرڈالے،وہ سیاستدان بھی ’شاباش کے مستحق‘ ہیں جنہوں اس رہائی کی حمایت اور مخالفت میں بیانات دے کر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی کوشش کی۔

رہائی کامعاملہ سربجیت سنگھ کا نہیں سرجیت سنگھ کا نکلا جس کی اتنی خبری اہمیت نہیں ہے۔ تو سازشی تھیوری کی دلدادہ جنوب ایشائی صحافت نے نیا پینترا مارا اور کہا کہ فیصلہ پاکستانی فوج نے تبدیل کرایا ہوگا۔

پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے اس کی تردید کردی اور بی بی سی کو آئی جی جیل خانہ جات فاروق نذیر نے بتایا کہ ’یہ دونوں الگ الگ قیدی ہیں اور ان دونوں میں سے کسی کی بھی رہائی کا پروانہ فی الحال ان تک نہیں پہنچا‘۔

میڈیا کی دنیا نے ایک کے بعد ایک خبر اور ٹاک در ٹاک شو کر کے اپنے ایک ڈیڑھ دن تو نکال لیے ہیں لیکن اس نام نہاد شاندار کوریج نے سربجیت سنگھ کی بیٹی پر دکھوں کے کیا پہاڑ توڑے۔ کس طرح اسے خوشی کی اونچائی پر لے جاکر غم کی کھائی میں گرایا؟

اس اندازہ کرنا بہت مشکل ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here