سابق فوجیوں کی تعیناتی پر تحفظات

Posted by on Jul 02, 2012 | Comments Off on سابق فوجیوں کی تعیناتی پر تحفظات

پاکستان کے خفیہ اداروں نے ملک کی اہم شخصیات کی سکیورٹی کے لیے سینکڑوں سابق فوجیوں کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

خفیہ اداروں کا موقف ہے کہ ان سابق فوجیوں کے کوائف اور سماجی حیثیت سے متعلق حکومت کو چھان بین کرنی چاہیے۔

تین سو سے زائد سابق فوجی اہلکاروں کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر اسلام آباد پولیس میں بھرتی کیا گیا ہے جن میں سے پچانونے فیصد کو ایوانِ صدر، وزیر اعظم ہاؤس، ججز کالونی اور اسلام آباد میں واقع مختلف سفارت خانوں پر حفاظتی خدمات کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

خفیہ اداروں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ کنٹریکٹ پر رکھے جانے والے سابق فوجیوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو فوج میں اپنی سروس ادھوری چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان اہلکاروں کو اہم شخصیات اور عمارتوں پر تعینات کرنے سے پہلے اُن کے کوائف کی تصدیق آئی ایس آئی یعنی انٹرسروسز انٹیلیجنس ایجنسی اور انٹیلیجنس بیورو سے نہیں کروائی گئی۔

ان افراد کو دو سال کا کنٹریکٹ دیا گیا ہے اور انہیں کانسٹیبل درجے کی تنخواہ دی جا رہی ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق ان خفیہ اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی کے علم میں نہیں ہے کہ سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ افراد کیا کرتے رہے اور کیا ان کا کسی کالعدم یا شدت پسند تنظیموں سے تعلق تو نہیں رہا۔

“ان افراد کی بھرتیوں میں سیاسی اثرورسوخ استعمال کیا گیا اور ان افراد کی بھرتیوں کے لیے کوئی اشتہار نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ ان افراد کو انسداد دہشت گردی کی تربیت ہی نہیں دی گئی اور محض دو ماہ تک پولیس لائنز میں پولیس کی ابتدائی تربیت کے بعد اُنہیں ان اہم عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔”

وزارتِ داخلہ کے اہلکار

وزارتِ داخلہ کے اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کی بھرتیوں میں سیاسی اثرورسوخ استعمال کیا گیا اور ان افراد کی بھرتیوں کے لیے کوئی اشتہار نہیں دیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان افراد کو انسداد دہشت گردی کی تربیت ہی نہیں دی گئی اور محض دو ماہ تک پولیس لائنز میں پولیس کی ابتدائی تربیت کے بعد اُنہیں ان اہم عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق اتنی اہم جگہوں پر تعیناتی سے پہلے ان خفیہ اداروں کی جانب کلیرنس رپورٹ نہیں لی گئی تھی بلکہ پولیس کے خفیہ محکمے سپیشل برانچ کی رپورٹ پر ہی اکتفا کیا گیا تھا اور یہ رپورٹ تیس کے قریب افراد کے بارے میں تھی جبکہ باقی ماندہ کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے افراد سے متعلق تو یہ رپورٹ بھی ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔

تین سو سے زائد سابق فوجی اہلکاروں کو کنٹریکٹ کی بنیاد پر اسلام آباد پولیس میں بھرتی کیا گیا ہے جن میں سے پچانونے فیصد کو ایوانِ صدر، وزیر اعظم ہاؤس، ججز کالونی اور اسلام آباد میں واقع مختلف سفارت خانوں پر حفاظتی خدمات کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ انتہائی اہم شخصیات کے لیے سکیورٹی کی ڈیوٹی کے لیے اسلام آباد پولیس میں نفری کی کمی کی وجہ سے ان افراد کو بھرتی کیا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنیامین خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان افراد کی بھرتی میرٹ پر کی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان افراد کو بھرتی کرنے سے پہلے اُن کی پینشن بُک کو دیکھا گیا۔ تاہم اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان افراد کی بھرتی کے لیے کیا طریقہ کار رکھا گیا تھا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد پولیس کو پانچ سو سے زائد افراد کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے جن میں ساڑھے چار سو کے قریب کانسٹیبل اور ایک سو سے زائد اسسٹنٹ سب انسپکٹر شامل ہیں۔ ان افراد نے دو سال قبل ان عہدوں کے لیے ہونے والا امتحان اور انٹرویو پاس کیا تھا تاہم داخلہ امور کے وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے ان امتحانات کے نتائج کا اعلان روک دیا تھا۔ مشیرِ داخلہ کے اس اقدام کے خلاف کامیاب ہونے والے امیدواروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

خفیہ اداروں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ کنٹریکٹ پر رکھے جانے والے سابق فوجیوں میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو فوج میں اپنی سروس ادھوری چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔

ان افراد کو دو سال کا کنٹریکٹ دیا گیا ہے اور انہیں کانسٹیبل درجے کی تنخواہ دی جا رہی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان اہلکاروں کو اہم شخصیات اور عمارتوں پر تعینات کرنے سے پہلے اُن کے کوائف کی تصدیق آئی ایس آئی یعنی انٹرسروسز انٹیلیجنس ایجنسی اور انٹیلیجنس بیورو سے نہیں کروائی گئی۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق ان خفیہ اداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی کے علم میں نہیں ہے کہ سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ افراد کیا کرتے رہے اور کیا ان کا کسی کالعدم یا شدت پسند تنظیموں سے تعلق تو نہیں رہا۔

“ان افراد کی بھرتیوں میں سیاسی اثرورسوخ استعمال کیا گیا اور ان افراد کی بھرتیوں کے لیے کوئی اشتہار نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ ان افراد کو انسداد دہشت گردی کی تربیت ہی نہیں دی گئی اور محض دو ماہ تک پولیس لائنز میں پولیس کی ابتدائی تربیت کے بعد اُنہیں ان اہم عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔”

وزارتِ داخلہ کے اہلکار

وزارتِ داخلہ کے اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کی بھرتیوں میں سیاسی اثرورسوخ استعمال کیا گیا اور ان افراد کی بھرتیوں کے لیے کوئی اشتہار نہیں دیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان افراد کو انسداد دہشت گردی کی تربیت ہی نہیں دی گئی اور محض دو ماہ تک پولیس لائنز میں پولیس کی ابتدائی تربیت کے بعد اُنہیں ان اہم عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد پولیس کو پانچ سو سے زائد افراد کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے جن میں ساڑھے چار سو کے قریب کانسٹیبل اور ایک سو سے زائد اسسٹنٹ سب انسپکٹر شامل ہیں۔ ان افراد نے دو سال قبل ان عہدوں کے لیے ہونے والا امتحان اور انٹرویو پاس کیا تھا تاہم داخلہ امور کے وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے ان امتحانات کے نتائج کا اعلان روک دیا تھا۔ مشیرِ داخلہ کے اس اقدام کے خلاف کامیاب ہونے والے امیدواروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

اہلکار کے مطابق اتنی اہم جگہوں پر تعیناتی سے پہلے ان خفیہ اداروں کی جانب کلیرنس رپورٹ نہیں لی گئی تھی بلکہ پولیس کے خفیہ محکمے سپیشل برانچ کی رپورٹ پر ہی اکتفا کیا گیا تھا اور یہ رپورٹ تیس کے قریب افراد کے بارے میں تھی جبکہ باقی ماندہ کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے افراد سے متعلق تو یہ رپورٹ بھی ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here