زرداری کا سیاسی عہدہ موضوع بحث

Posted by on Jun 30, 2012 | Comments Off on زرداری کا سیاسی عہدہ موضوع بحث

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی سیاسی سرگرمیوں سے متعلق حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد یہ معاملہ سیاسی حلقوں میں ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔

عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ایسے وقت جب تمام سیاسی جماعتیں آئندہ انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں، کیا صدر زرداری اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے؟

لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے مسٹر زرداری کو حکمران پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے اور ایوانِ صدر میں سیاسی سرگرمیاں ترک کرنے کے لیے 5 ستمبر تک کی مہلت دی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما مسٹر زرداری کے دو عہدوں کا دفاع کرتے ہوئے اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ ملک کا آئین صدر کو اپنی سیاسی وابستگی ترک کرنے کا پابند نہیں کرتا۔

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی دسمبر 2007ء میں خودکش بم حملے میں ہلاکت کے بعد ان کے بیٹے بلاول بھٹو کو پیپلز پارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا، جب کہ آصف علی زرداری جماعت کے شریک چیئرمین ہیں۔ مگر عملی طور پر پارٹی کے تمام معاملات اب صدر زرداری ہی چلا رہے ہیں اور اس سلسلے میں ہونے والے پارٹی کے بیشتر اہم اجلاس ان کی سربراہی میں ایوانِ صدر میں منعقد کیے جاتے ہیں۔

حکمران جماعت کے سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ صدر سے سیاسی سرگرمیاں ترک کرنے کا مطالبہ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔

’’آپ یہ پابندی کیسے لگا سکتے ہیں کہ وہ ملاقاتیں اور سیاست پر بات نا کریں۔ یا تو آئین میں کوئی ترمیم لائی جائے کہ وہ آدمی صدر نہیں ہو سکتا جو سیاست میں ملوث ہو۔ تو پھر یہ بات سنجھ میں آتی ہے۔ لیکن فی الوقت ہمارے آئین میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے … اگر صدرِ پاکستان ایوانِ صدر میں بیٹھ کر سیاست دانوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں تو یہ کوئی جرم نہیں ہے۔‘‘

’’عہدہ چھوڑ دینا زیادہ اہم نہیں ہے، لیکن اگر ان کے پاس کوئی عہدے ہے تو اس کا استعمال نا کریں یہ زیادہ اہم ہے۔ یہ ہائی کورٹ کی تنبیہ اور خوہش ہیں مگر مجھے یہ قابل عمل دیکھائی نہیں دیتا۔‘‘

سابق وزیرِ قانون ایس ایم ظفر نے بھی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر آئینی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here