رینجرز کا کردار ایک بار پھر زیرِ بحث

Posted by on Jun 10, 2011 | Comments Off on رینجرز کا کردار ایک بار پھر زیرِ بحث

کراچی میں رینجرز اہلکار کے ہاتھوں نوجوان سرفراز شاہ کی ہلاکت کے بعد شہر میں رینجرز کی موجودگی اور ان کا کردار ایک مرتبہ پھر زیر بحث آ گیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کراچی میں رینجرز پر فائرنگ کر کے لوگوں کو ہلاک کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ایسے کئی واقعات اور الزامات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں جنہیں رینجرز ہر بار مسترد کرتے رہے ہیں مگر اس بار ایک کیمرہ مین نے حقائق مسخ کر دیے جانے سے پہلے انہیں کیمرے میں محفوظ کرلیا۔

گزشتہ سال ستمبر میں لیاقت آباد کے علاقے میں دو نوجوان رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد شیعہ تنطیمیں کئی روز تک احتجاج کرتی رہیں۔

اس سے کچھ عرصہ قبل جامعہ کراچی کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان رینجرز کی فائرنگ کا نشانہ بنے، اس وقت رینجرز کا دعوی تھا کہ ڈبل سواری پر پابندی کے باوجود دونوں موٹر سائیکل پر سوار تھے انہیں رکنے کا اشارہ کیا گیا اور نہ رکنے پر رینجرز نے انہیں نشانہ بنایا۔

اس کے علاوہ لیاری اور کورنگی میں بھی رینجرز کے مبینہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی پر مقامی لوگوں کے اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں اور یہ معاملات اتنا بڑھ گئے تھے کہ سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے بھی اس کارروائی پر تنقید کی تھی۔

رینجر اہلکار کی فائرنگ کی فوٹیج ٹی وی چینلز پر نشر کی گئی ہے

کراچی میں رینجرز کو انیس سو چورانوے میں صوبائی حکومت کی درخواست پرامن و امان کی بحالی کے لیے عارضی طور پرطلب کیا گیا تھا مگر اس مدت میں ہر سال توسیع ہوتی رہی ہے۔

شہر میں جاری سیاسی اور مذہبی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگز کے بعد وفاقی حکومت کی تجویز پر سندھ حکومت نے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت رینجرز کو پولیس کے اختیارات سونپے گئے جس میں ہر تین ماہ کے بعد اضافہ کیا جاتا ہے

تاہم عام لوگ اس کی کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آتے کیونکہ ان سے نہ تو ٹارگٹ کلنگز واقعات میں کمی آئی ہے اور نہ ہی اس میں ملوث ملزمان گرفتار ہو سکے ہیں۔

بدھ کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھی رینجرز کا کردار زیر بحث آیا، جس میں حکومتی اراکین نے بھی اس واقعے پر تنقید کی۔ صوبائی وزیر شازیہ مری کا کہنا تھا کہ یہ بربریت کا عمل ہے، رینجرز کو لوگوں کے تحفظ کے لیے بلایا گیا ہے نہ کہ لوگوں کو بے رحم مارنے کے لیے۔

ان کیمطابق حکومت سکیورٹی ایجنسی کو لوگوں کے حقوق کی خلاق ورزی کی اجازت نہیں دے سکتے یہ جمہوریت ہے اس میں ایسی ذہنیت کی اجازت نہیں ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here