ریاستی ادارے قتل کروانا چاہتے ہیں،عاصمہ جہانگیر

Posted by on Jun 06, 2012 | Comments Off on ریاستی ادارے قتل کروانا چاہتے ہیں،عاصمہ جہانگیر

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ انہیں قتل کے منصوبہ کے بارے جس ذریعے معلومات حاصل ہوئی ہے وہ قابل اعتماد اور مصدقہ ہے۔

  سپریم کورٹ کی سابق صدر نے کہا کہ اگر ان کو قتل کردیا جائے تو ان بارے میں اس کوئی ابہام پیدا نہ کیا جائے کہ ان کو کسے نے مارا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر نے انکشاف کیا ہے کہ ریاست کے سیکیورٹی اداروں نے اعلٰی سطح پر ان کے قتل کا منصوبہ تیار کیا ہے تاہم وہ اس سے خوفزرہ ہوکر کہیں جانے والی نہیں ہیں۔

ان کے بقول انہوں نے اکیس برس کی عمر میں جدوجہد شروع کی تھی اور جدوجہد کرنے والے کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر نے بتایا کہ پاکستان بارکونسل نے حکومت سے رابطہ کیا ہے اور انہیں اس منصوبہ کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی صدر آصف علی زرداری اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے فون پر بات ہوئی۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر نے کہا کہ وہ اس بات سے خوف ذرہ نہیں ہے کہ ان کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا ہے ان کے بقول لوگ آتے جاتے ہیں لیکن اس اقدامات سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔


انہوں نے بتایا کہ انہیں ملک سے باہر جانا تھا لیکن اب انہوں نے اپنے دورہ منسوخ کردیا ہے کیونکہ ان کے باہر جاتے ہی کوئی منصوبہ بندی کی جائے گی۔سپریم کورٹ بار کے سابق صدر نے کہا کہ کئی لوگوں کو اس طرح ڈریا گیا اور وہ ملک سے چلے گئے لیکن وہ اس خوف زدہ ہوکر کہیں جانے والی نہیں ہیں اور ملک میں رہیں گی کیونکہ ان کے بزرگوں کی ہڈیاں اسی ملک میں ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ ’اگر کوئی بندوق سے لڑنا جانتا ہے تو میں بغیر بندوق کے ان سے بہتر لڑنا جانتی ہو۔‘

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ وہ ملک کی شہری ہیں اور انہیں تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم ابھی تک حکومت نے جو انتظامات کیے ہیں اس سے وہ معطمئن نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر پر رینجرز تعینات کیے گئے تاہم ابھی اس طرح کے انتظامات نہیں ہیں جس طرح کے ان کے زندگی کو خطرات ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’جو لوگ ہمارے محافظ ہیں ان سے ہی خوف آئے، اِس روش کو ختم کیا جائے۔‘

ایک سوال پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’ہوسکتا ہے کہ بلوچستان کے معاملے پر سپریم کورٹ بار کی کانفرنس کی کامیابی کے بعد ایسا منصوبہ بنایا گیا ہو۔‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے قتل کا منصوبہ ملک میں جمہوری عمل کو روکنے اور روکاٹ ڈالنے کی ایک کڑی ہے۔

انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اختلاف کرنے کی بنا پر کتنے لوگوں کی جان لی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ترقی پسند لوگوں کی زبان بند کی جائے اور لوگوں کو ایسے ڈر اور خوف میں مبتلا کیا جائے کہ وہ بول نہ سکیں ملک کا مستقبل کیا ہو۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ملک کا مستقبل خاکی وردی والے یا سترہ جج نہیں بلکہ عوام بنائیں گے

ان کے بقول ان کی اپنے شوہر، بوڑھی ماں یا پھر بہن سے کوئی دشمنی نہیں ہے اس لیے سب کو معلوم ہونا چاہئے کس نے ان کی جان لی ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here