راجہ پرویز اشرف کے سیاسی سفر پر ایک نظر

Posted by on Jun 23, 2012 | Comments Off on راجہ پرویز اشرف کے سیاسی سفر پر ایک نظر

وزارت عظمیٰ کی ہما بلاآخر مخدوم شہاب الدین اور قمرالزمان کائرہ کے سر کو چھوتی ہوئی گوجر خان کے راجہ پرویز اشرف کے سر آن بیٹھا ہے۔

کیا ’رینٹل‘ راجہ کے نام سے اخبارات میں یاد کیے جانے والے راجہ پرویز اشرف ہی حکمراں پیپلز پارٹی کے پاس بہترین امیدوار تھے، یہ سوال آنے والے چند روز میں یقیناً اٹھایا جائے گا۔

اکتيس مارچ دو ہزار آٹھ کو وزيراعظم يوسف رضا گيلانی کی کابينہ ميں انہیں پانی و بجلی کا وفاقی وزير بنايا گيا۔ دسمبر دو ہزار نو تک ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا اعلان ان کے لیے کافی مہنگا ثابت ہوا۔ قوم سے یہ وعدہ وفا نہ ہونے پر انہیں آج تک کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ اس عہدے پر وہ نو فروری دو ہزار گيارہ تک فائز رہے۔

بنیادی طور پر راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان کے علاقے مندرہ سے تعلق رکھنے والے راجہ صاحب کا خاندان نہری نظام متعارف ہونے پر سندھ منتقل ہوا گیا تھا۔ ان ہی دنوں وہ سنہ انیس سو پچاس میں سانگھڑ میں پیدا ہوئے۔ سال انیس سو ستر میں سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد گجر خان منتقل ہوگئے اور یہیں سے انہوں نے سیاست میں پہلا قدم رکھا۔

ان کے چچا صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔ ابتدا میں راجہ پرویز اشرف نے جوتوں کا کارخانہ قائم کیا لیکن بعد میں پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہوگئے۔

راولپنڈی میں پیپلز پارٹی کی سیاست کے حوالے سے وہ سنہ انیس سو اٹھاسی سے انتہائی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انیس سو نوے، ترانوے اور ستانوئے کے عام انتخابات میں انہیں مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے مشترکہ امیدواروں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔

قومی سیاست کے منظرِ عام پر وہ پہلی مرتبہ سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے اکاون سے کامیابی کے بعد آئے۔ اسی حلقے سے وہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے دوبارہ ایوان میں پہنچے۔

وزارت پانی و بجلی کے دوران رینٹل پاور کا سکینڈل بھی سامنے آیا جس میں ان پر بھاری رقوم بطور رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا۔ اس الزام عائد کرنے میں پیش پیش مسلم لیگ (قاف) کے فیصل صالح حیات تھے جو اب پیپلز پارٹی کے اتحادی ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here