ذرائع ابلاغ کا کوئی ضابطہ اخلاق نہیں؟

Posted by on Jun 30, 2012 | Comments Off on ذرائع ابلاغ کا کوئی ضابطہ اخلاق نہیں؟

پاکستان میں میڈیا باضابطہ ایک بڑی صنعت کا روپ اختیار تو کر چکا ہے لیکن مہذب دنیا کے ممالک کے میڈیا کی طرح وہ متفقہ ضابطہ اخلاق نہیں بنا سکا۔ پاکستان میں ذرائع ابلاغ سے وابسطہ فریق چاہے وہ صحافی ہوں، اخباری مالکان اور مدیران کی تنظیمیں ہوں، براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن ہوں یا حکومت ان سب کا اپنا اپنا ضابطہ اخلاق ہے۔

اگر کہیں ہے بھی تو اس پر فریقین کا اتفاق نہیں اور پیمرا جیسا ریگولیٹر اس سلسلے میں کوئی مؤثر کردار ادا کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتا۔

حال ہی میں خود میڈیا والے ایک سکینڈل کی زد میں اس وقت آئے جب دو معروف ٹی وی اینکرز کی وہ پرائوٹ گفتگو منظر عام پر آ گئی جو وہ زمین کا لین دین کرنے والے ایک کاروباری کے ساتھ طے شدہ ٹی وی انٹرویو کے دوران کر رہے تھے۔ یہ بات چیت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان چوہدری پر لگنے والے مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے بارے میں تھی۔

پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز بہت دیکھے جاتے ہیں لیکن ان کے پروگرام چاہے وہ خبروں یا حالاتِ حاضرہ کے ہوں یا تفریحی پروگرام یا ڈرامے ان کے لیے اخلاقی حدود کے تعین کے لیے کوئی ضابطہ موجود نہیں۔

پریس کونسل آف پاکستان کے سربراہ راجہ شفقت عباسی نے کہا کہ ان کی بات اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان سے ہوئی ہے اور وہ ضابطہ اخلاق کے حق میں ہیں۔ ’اختلاف ضابطہ اخلاق پر نہیں ہے بلکہ اس کے نفاذ پر ہے۔ نجی ٹی وی چینلوں کا کہنا ہے کہ وہ پیمرا کے تحت نہیں آتے کیونکہ سرکاری ٹی وی بھی نہیں آتا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیمرا سرکاری کونسل ہے اور اس میں سرکار کے نامزد کیے گئے چند افراد ہیں اس لیے شاید بات آگے نہیں بڑھ رہی۔‘

پریس کونسل آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پہلے سے تیار شدہ ضابطہ اخلاق موجود ہے جو تمام فریقین کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔ اگرچہ بحث ابھی چل رہی ہے کہ موجودہ حالات کے مطابق ضابط اخلاق میں ضروری تبدیلیاں کردی جائیں لیکن کیا ذرائع ابلاغ کے مالکان بھی اس کی حمایت کریں گے؟

صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر پرویز شوکت اس خیال سے متفق نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کے مالکان میں مالی فوائد کی جنگ چھڑی ہوئی ہے اور وہ کسی بھی ضابطہ اخلاق میں نہیں آنا چاہتے۔

’فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پریس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہے اور ہم نے تنظیم کاآئین بھی ان کو دیا ہے۔ ہم ضابطہ اخلاق کی تیاری کے حق میں ہیں اور ہم ٹی وی چینلز کے مالکان کے ساتھ بھی بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔‘

صحافی اور ٹی وی اینکر حامد میر نے اس ضابطہ اخلاق پر صحافیوں کے اعتراضات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ’ پریس کونسل آف پاکستان نے پہلے پشاور میں ایک سیمینار کیا اور اب اسلام آباد میں۔ ہم صحافی ضابطہ اخلاق کے حق میں ہیں۔ لیکن اگر ضابطہ اخلاق کے نام پر ہماری آواز بند کی گئی تو ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے۔‘

بظاہر تو اس ضابطہ اخلاق کی واضح مخلفت دکھائی نہیں دیتی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد ہو گا یا نہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here