دیر بالا: لاپتہ سکیورٹی اہلکاروں کی تلاش جاری

Posted by on Jun 25, 2012 | Comments Off on دیر بالا: لاپتہ سکیورٹی اہلکاروں کی تلاش جاری

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع دیر بالا میں حکام کے مطابق افغان سرحد کے پار سے آنے والے شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے ہیں۔

سوات میڈیا سنٹر کے مطابق لاپتہ ہوجانے والے اہلکاروں کی تلاش جاری ہے تاہم ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان مالاکنڈ ڈویژن کے ترجمان سراج الدین نے بی بی سی کو فون کر کے دعویٰ کیا ہے کہ اپر دیر کے علاقے برآول درّے میں سکیورٹی فورسز کے ایک گشتی دستے پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں سکیورٹی فورسز کے اٹھارہ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امورِ داخلہ سے متعلق وزیرِ اعظم کے مشیر رحمان ملک نے افغان وزیرِ داخلہ سے اس واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے افغان وزیر کہا کہ دونوں ممالک میں یہ طے پایا تھا کہ وہ اپنی اپنی سرحدوں سے ایک دوسرے کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو روکنے کی کوشش کریں ہے۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان تو اپنا فرض پورا کر رہا ہے لہذٰا افغانستان بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ہلاک والے سترہ اہلکاروں کی لاشین ان کے قبضے میں ہیں۔

سکیورٹی حکام نے سکیورٹی اہلاروں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم ان کے مطابق ابھی ہلاکتوں سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے اور یہ محض طالبان کا دعویٰ ہو سکتا ہے۔

سوات میڈیا سنٹر کے مطابق ’ان اہلکاروں کو ابھی ہلاک نہیں کیا گیا تاہم ان کا بھی اہلکاروں سے تاحال کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔‘

حکام کے مطابق شدت پسندوں سے جھڑپ میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے جب کہ جوابی کارروائی میں گیارہ شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے حملے میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جبکہ اس واقعے میں چند سکیورٹی اہلکار لاپتہ ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ افغان سرحد سے متصل دیر بالا میں اس سے پہلے بھی متعدد بار سکیورٹی فورسز پر حملے ہو چکے ہیں۔

سکیورٹی حکام کا موقف رہا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند سرحد پار کر کے سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں اور ان حملوں کے خلاف پاکستان متعدد بار افغان حکام سے باضابطہ احتجاج بھی کر چکا ہے۔

گزشتہ سال سرحد پار سے شدت پسندوں کے حملوں میں اضافے پر پاکستان کے وزیراعظم نے افغان صدر حامد کرزئی سے کہا تھا کہ سرحدی دراندازی پر پاکستانی فوج انتہائی صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

حکام نے دیر بالا میں افغان سرحد کے پار سے آنے والے شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں چھ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

دریں اثناء کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور چار سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ کارروائی کے دوران چار سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا گیا اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ایک دو روز میں کیا جائے گا۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام کو افغانستان سے آنے والے مسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک پیٹرولنگ ٹیم پر حملہ کیا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here