دوہری شہریت، محمد جمیل ملک کی رکنیت معطل

Posted by on Jul 04, 2012 | Comments Off on دوہری شہریت، محمد جمیل ملک کی رکنیت معطل

سپریم کورٹ نے دوہری شہریت سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن محمد جمیل ملک کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

جمیل ملک چوتھے رکن پارلیمان ہیں جن کی رکینت معطل کی گئی ہے اس سے پہلے داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک، زاہد اقبال اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کی اہلیہ فرح ناز اصفہانی شامل ہیں۔

 جمیل ملک کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کا موکل ہالینڈ کے مستقل رہائشی ہیں لیکن شہری نہیں ہیں اور اُنہوں نے ہالینڈ سے وفاداری کا حلف نہیں اُٹھایا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسا حلف تو شائد دوہری شہریت رکھنے والے دیگر ارکان پارلیمنٹ نے بھی نہ اُٹھایا ہو۔

جمیل ملک سنہ دوہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقے ایک سو سات سے کامیاب ہوئے تھے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دوہری شہرت سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

اُنہوں نے کہا کہ جمیل ملک ہالینڈ کی شہریت رکھنے سے متعلق عدالت میں اعتراف بھی کر چکے ہیں۔

رحمان ملک کے وکیل انور منصور خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی رکن پارلیمان کی رکنیت کا معاملہ ہو تو اس کا فیصلہ کرنے کا بہترین فورم سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ ہیں۔

مستقل رہائشی ہیں شہری نہیں

جمیل ملک کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کا موکل ہالینڈ کے مستقل رہائشی ہیں لیکن شہری نہیں ہیں اور اُنہوں نے ہالینڈ سے وفاداری کا حلف نہیں اُٹھایا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسا حلف تو شائد دوہری شہریت رکھنے والے دیگر ارکان پارلیمنٹ نے بھی نہ اُٹھایا ہو۔

اُنہوں نے کہا کہ اُن کے موکل کا معاملہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین کو بھجوایا جا سکتا ہے۔

انور منصور خان نے کہا کہ اُن کے موکل کی سینیٹ کی رکنیت معطل کرنے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی رکن پارلیمان کی دوہری شہریت سے متعلق شواہد جمع کروانے کے لیے سپریم کورٹ مناسب فورم نہیں ہے جس پر بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو پھر کون سا فورم مناسب ہوگا۔

انور منصور کا کہنا تھا کہ پارلیمان ہی بہتر فورم ہے اور اس کے تحت ہی کسی کی دوہری شہریت سے متعلق فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کوئی گھر سے نااہلی ساتھ لیکر چلے اور پھر وہ ملک کا صدر یا وزیر اعظم بھی بن جائے تو نااہلی ساتھ ہی رہے گی۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے دوہری شہریت سے متعلق قانون سازی کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سابق نگران وزیر اعظم معین قریشی کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ لوگوں کو باہر سے بُلایا جاتا ہے اور پھر وہ جاتے وقت اپنا بریف کیس ساتھ لے جاتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر دوہری شہریت کا معاملہ جاری رہا تو کل ملک کا وزیر اعظم غیر ملکی کاروباری شہریت بھی ہو سکتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت اس معاملے پر فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق دے گی اور اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here