دفاع میں فائرنگ کی اجازت پر تاجر منقسم

Posted by on Jun 18, 2012 | Comments Off on دفاع میں فائرنگ کی اجازت پر تاجر منقسم

 

پاکستان کے تجارتی شہر کراچی میں پولیس نے تاجروں سے کہا ہے کہ وہ ڈاکوؤں کے خلاف خود کارروائی کرتے ہوئے اپنے دفاع میں گولی چلا سکتے ہیں تاہم پولیس کے اس اعلان پر تاجر برادری کی رائے تقسیم نظر آتی ہے۔

تاجروں کے بعض حلقوں نے پولیس کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے اور بعض اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی سے تعبیر کر رہے ہیں۔

ان کےمطابق ’پولیس پر الزام کہ پولیس کچھ نہیں کرتی تو پولیس بھی یہ کہنے میں بجا ہے کہ آپ بھی تو جرائم پیشہ افراد کے خلاف گواہی دیں اور اگر گواہی دینے سے بھی کتراتے ہیں تو اٹھائیے ہتھیار۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں اپنی جگہ کچھ قباحت ہے لیکن اس میں حل کا بھی کوئی عنصر موجود ہے‘۔

گزشتہ روز ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام شبیر شیخ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ بڑھتے ہوئے جرائم کے پیشِ نظر تاجر برادری اسلحہ کے لائسنس حاصل کرے اور اپنے دفاع میں ڈاکوؤں پر گولی چلائے۔

تاجروں کی تنظیم آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر کا کہنا ہے کہ پولیس اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہی ہے ایسے حالات میں یہ اقدام کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہاں تاجروں کے ذہنوں میں تو پہلے ہی ہے کہ اب انتظار کیوں کیا جائے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر ناکام ہیں تو تاجروں کو اپنا دفاع خود ہی کرنا ہوگا۔

ان کے بقول ’یہ زیادہ بہتر ہے کہ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی نے اب اعلان کردیا ہے اور یقیناً وقتی طور پر تو یہ ایک خوش آئند بات ہے‘۔

اس سوال پر کہ خود ہتھیار اٹھانے سے کیا دیگر مسائل نہیں پیدا ہوں گے، انہوں نے جواب دیا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں لیکن دفاعی نظام میں اگر بڑا قدم اٹھانے سے چھوٹی تکلیف سامنے آتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے‘۔

انہوں نے سوال کیا کہ حکومت اسلحہ کے کتنے لائسنس جاری کرے گی۔ ان کے بقول ’میں سمجھتا ہوں کہ کراچی میں اس وقت سات سے آٹھ لاکھ دکاندار ہیں تو کیا ان سب کو وہ اسلحہ کے لائسنس دے دیں گے۔ کیا ہر دکاندار اسی کام کے لیے اسلحہ لے کر بیٹھا رہے گا۔ نہ حکومت اتنے لائسنس جاری کرے گی اور نہ ہی اس اعلان پر عمل ہوگا‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ تاجر انتہائی اقدام کے لیے تیار ہیں تو انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کی کارروائیوں کے سبب اب ان کی مجبوری انہیں اس بات پر اکساتی ہے کہ اور اب وہ اس بات پر ذہنی طور سے تیار ہیں اور ان کا اسلحہ لائسنس طلب کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ جرم کے خلاف اپنے آپ کو تیار کر چکے ہیں۔

“یہاں تاجروں کے ذہنوں میں تو پہلے ہی ہے کہ اب انتظار کیوں کیا جائے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر ناکام ہیں تو تاجروں کو اپنا دفاع خود ہی کرنا ہوگا۔یہ زیادہ بہتر ہے کہ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی نے اب اعلان کردیا ہے اور یقیناً وقتی طور پر تو یہ ایک خوش آئند بات ہے۔”

عتیق میر

عتیق میر نے کہا کہ دو روز قبل سندھ کے وزیرِاعلٰی سید قائم علی شاہ سے آل کراچی تاجر اتحاد کے نمائندوں کی ملاقات ہوئی تھی جس میں باقاعدہ اعلان کیا گیا تھا کہ تاجر رجسٹرڈ ایسوسی ایشنز یا ذمہ داران کی سفارش پر اسلحہ لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلحہ لائسنس حاصل کرنے کے طریقۂ کار کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے لیکن اس وقت اسلحہ بہرحال تاجروں کی ضرورت ہے اور حکومتی اقدام خوش آئند ہے۔

رفیق جدون کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی رِٹ کو قائم کرے، امن و امان کو بحال کرے اور شہر کو اسلحہ سے پاک کرے۔ انہوں نے کہا ’کراچی میں حکومت کی کوئی رِٹ ہی نہیں ہے اور اس کا حل یہ ہی ہے کہ کراچی میں فوج تعینات کی جائے اور کرفیو لگا کر شہر کو اسلحہ سے پاک کیا جائے‘۔

“تاجروں کا کام یہ نہیں کہ اپنے دفاع میں گولیاں چلاتے پھریں بلکہ تاجروں کا کام کاروبار کرنا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہی ہے کہ کراچی پولیس امن قائم کرنے میں اور تاجروں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔”

رفیق جدون

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے کراچی کے نائب سربراہ امر ناتھ موٹومل کا کہنا ہے کہ پولیس کا اعلان درست اقدام نہیں لیکن موجودہ حالات میں اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم سمجھتے ہیں کہ پولیس کی طرف سے یہ طریقہ صحیح نہیں کہ لوگوں سے کہیں کہ ہتھیار خود اٹھا لو لیکن ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے‘۔

دوسری جانب آل کراچی انجمن تاجران کے سربراہ رفیق جدون نے کہا کہ ’تاجروں کا کام یہ نہیں کہ اپنے دفاع میں گولیاں چلاتے پھریں بلکہ تاجروں کا کام کاروبار کرنا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب تو یہ ہی ہے کہ کراچی پولیس امن قائم کرنے میں اور تاجروں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

 

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here