دفاعی بجٹ میں گیارہ فیصد اضافہ

Posted by on Jun 04, 2011 | Comments Off on دفاعی بجٹ میں گیارہ فیصد اضافہ

حکومتِ پاکستان نے اگلے مالی سال کے لیے دفاعی اخراجات میں گیارہ اعشاریہ تین فیصد اضافہ کرتے ہوئے چار سو پچانوے ارب روپے مختص کیے ہیں۔

اس سے پہلے اپریل میں پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے دفاع نے تجویز دی تھی کہ دفاع کا بجٹ پانچ سو ارب روپے تک بڑھایا جائے۔

قومی اسمبلی میں مالی سال 12-2011 کے بجٹ کی دستاویزات میں دفاعی اخراجات کے لیے چار کھرب پچانوے ارب اکیس کروڑ پچاس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جو گذشتہ مالی سال سے پچاس ارب ستاون کروڑ پچاس روپے یعنی گیارہ اعشاریہ تین فیصد زیادہ ہیں۔

رواں مالی سال میں دفاعی اخراجات کے لیے ابتدا میں چار کھرب بیالیس ارب سترہ کروڑ تیس لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے لیکن بعد میں تقریبا ڈھائی ارب روپے زیادہ خرچ ہوئے تھے۔

نامہ نگار ذوالفقار علی کے مطابق ماضی کی طرح اس بجٹ میں بھی ریٹائرڈ فوجیوں کو دی جانے والی پینشن کی رقم جو لگ بھگ پچپن ارب روپے بنتی ہے شامل نہیں ہے۔

گزشتہ برس کی طرح نئے مالی سال کے لیے بجٹ میں ایک نئی مدگرانٹس ادر دین پراونسز ہے جس میں تین سو چالیس ارب روپے مختص ہیں۔وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس رقم کا زیادہ تر حصہ بھی دفاعی مقاصد کے لیے ہے جو فوجی آپریشنز، خصوصی ٹاسک یا سیلاب وغیرہ جیسی قدرتی آفات میں کام کرتے ہیں انہیں ادا کی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے اصل معنوں میں دفاعی بجٹ کا مجموعی حجم آٹھ سو ارب روپے سے بھی بڑھ جاتا ہے۔

ملازمین سے متعلقہ اخراجات دو کھرب چھ ارب اڑتالیس کروڑ اسی لاکھ روپے ،عملی اخراجات کے لیے ایک کھرب اٹھائیس ارب اٹھائیس کروڑ تیس لاکھ اور اثاثہ جات کے لیے ایک کھرب سترہ ارب انسٹھ کروڑ دس لاکھ مختص کیے گیے ہیں جبکہ سول ورکس کے لیے بیالیس ارب تریسٹھ کروڑ اسی لاکھ، کم بازیابی کے لییایک ارب پچیس کروڑ پچاس لاکھ، دفاعی انتظامیہ کے لیے ایک ارب سینتالیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں

بجٹ دستاویزات

بجٹ دستاویزات کے مطابق ملازمین سے متعلقہ اخراجات دو کھرب چھ ارب اڑتالیس کروڑ اسی لاکھ روپے ،عملی اخراجات کے لیے ایک کھرب اٹھائیس ارب اٹھائیس کروڑ تیس لاکھ اور اثاثہ جات کے لیے ایک کھرب سترہ ارب انسٹھ کروڑ دس لاکھ مختص کیے گیے ہیں جبکہ سول ورکس کے لیے بیالیس ارب تریسٹھ کروڑ اسی لاکھ، کم بازیابی کے لییایک ارب پچیس کروڑ پچاس لاکھ، دفاعی انتظامیہ کے لیے ایک ارب سینتالیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

مارچ سنہ دو ہزار آٹھ میں پیپلز پارٹی نے برسر اقتدار میں آنے کے بعد دعوی کیا تھا کہ وہ دفاع کے لیے مختص کی جانے والی رقم کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرنے کی روایت کو بحال کرے گی۔

دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ فوج کو تیل اور تنخواہوں کے اخراجات منظر عام پر لانے پر تو کوئی اعتراض نہیں لیکن اسلحہ اور دیگر دفاعی ساز و سامان کی خریداری کے اربوں روپے کے اخراجات کی تفصیل بتانے پر آمادہ نہیں اور بدعنوانی کے بڑے کیس اسی ساز و سامان کی خریداری میں ہی سامنے آئے ہیں۔ بعض لوگوں کو سابق فوجیوں کی پنشن کو دفاعی بجٹ سے الگ رکھنے پر بھی اعتراض ہے۔

سنہ انیس سو سینتالیس میں برصغیر کی تقیسم اور قیام پاکستان کے بعد سنہ انیس سو پینسٹھ تک سالانہ وفاقی بجٹ میں دفاعی اخراجات کی مختصر تفصیل درج ہوتی تھی لیکن بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ روایت بھی ختم کر دی گئی تھی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here