خدشہ تھا کہ سپریم کورٹ کوئی حکم نہ دے دے

Posted by on Jun 19, 2012 | Comments Off on خدشہ تھا کہ سپریم کورٹ کوئی حکم نہ دے دے

پاکستان کے اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو نا اہل قرار نہ دینے کے بارے میں سپیکر کی رولنگ پر قومی اسمبلی میں قرارداد اس لیے لائی گئی کہ خدشہ تھا کہ سپریم کورٹ کوئی اور حکم جاری نہ کردے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اگر سپیکر کی رولنگ کارروائی کا حصہ تھی تو پھر قرارداد کیوں لائی گئی۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قرارداد اس لیے لائی گئی کہ خدشہ تھا کہ سپریم کورٹ کوئی اور حکم نہ دے دے۔

اس مقدمے کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔

عرفان قادر نے مزید کہا کہ اسمبلی کے کسی بھی رکن کو نااہل قرار دینا پارلیمنٹ کا کام ہے۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ وزیراعظم کو عدالت میں طلب نہیں کر سکتی کیونکہ یہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

یہ بات اٹارنی جنرل نے قومی اسمبلی کی سپیکر کی رولنگ سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہی۔

دلائل دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سوئس حکام کو مقدمے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا خط نہ لکھنے کا فیصلہ آئین کے مطابق تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو حکومت کو ہر قدم اٹھانے سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here