’حکومتی صفوں میں دراڑیں، چیف جسٹس پر تنقید‘

Posted by on Jul 10, 2012 | Comments Off on ’حکومتی صفوں میں دراڑیں، چیف جسٹس پر تنقید‘

 

منگل کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس ایک ہی وقت میں چلتے رہے، جہاں سینیٹ میں دوہری شہریت کے بل پر حکومتی صفوں میں واضح دراڑیں نظر آئیں وہاں قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر کھل کر تنقید بھی کی گئی۔

وزیر قانون فاروق نائیک نے دوہری شہریت کی بنا پر پارلیمان کا رکن منتخب ہونے پر پابندی ختم کرنے کا جب بل پیش کیا تو حکومتی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی عدیل نے کہا کہ وہ اس کی مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو بھیجنے کے بارے میں ووٹنگ کرائیں۔

دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں پر پارلیمان کا رکن بننے کی پابندی ختم کرنے کے لیے آئین میں بائیسویں ترمیم کا بل منگل کو سینیٹ میں پیش کیا گیا اور چیئرمین سینیٹ نے بل قانون و انصاف کے بارے میں کمیٹی کو مزید کارروائی کے لیے بھیج دیا۔

توقع کی جا رہی تھی کہ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد حکومت شاید سینیٹ سے منگل کو توہین عدالت کا نیا قانون منظور کروائے گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ شاید اس کی وجہ اتحادی جماعتوں میں اختلاف رائے اور چیف جسٹس کے وہ ریمارکس ہوں، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عدالت کو پارلیمان کے منظور کردہ قوانین پر نظر ثانی کا اختیار حاصل ہے۔

حکومتی جماعت پیپلز پارٹی کے دو سرکردہ سینیٹرز اعتزاز احسن اور رضا ربانی نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وضاحت کرے کہ امریکی شہریت اس شرط پر ملتی ہے جب وہ امریکہ کے لیے اسلحہ اٹھانے کا حلف دیتا ہے۔

وزیر دفاع بھی غیر ملکی بنیں گے؟

“دوہری شہریت رکھنے والوں پر رکن پارلیمان بننے کی پابندی ذوالفقار علی بھٹو نے لگائی تاکہ غیر ملکی اور بااثر لوگ پارلیمان میں نہ آئیں۔ لیکن ان کے بقول آج اس شق کو ان کی ہی جماعت ختم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دوست ممالک کی مداخلت پہلے ہی بہت ہے کیا اب وزیراعظم اور وزیر دفاع بھی غیر ملکی بنیں گے؟”

سید ظفر علی شاہ

عام تاثر یہ ہے کہ حکومت متحدہ قومی موومنٹ کی فرمائش پر دوہری شہریت کے بارے میں آئینی ترمیم لا رہی ہے۔ لیکن منگل کو متحدہ قومی موومنٹ کے سید طاہر مشہدی نے کہا کہ ان کی جماعت کو اس بل پر تحفظات ہیں لیکن اس کے لیے مناسب فورم کمیٹی ہے۔

مسلم لیگ نون کے نمائندوں نے کہا کہ یہ بل کمیٹی کو ایوان کی رائے لیے بنا نہیں بھیجا جا سکتا۔ انہوں نے کہا حکومت ملکی سلامتی داؤ پر لگا رہی ہے اور غیر ملکیوں کی حکمرانی کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ بعد میں مسلم لیگ نون اور اے این پی نے بل کے خلاف واک آؤٹ کیا۔

وزیر قانون فاروق نائیک نے کہا کہ اختلاف رائے کا سب کو حق ہے اور کمیٹی میں جب غور ہوگا تو وہ سب کو مطمئن کریں گے۔ ان کے بقول اس بل کے تحت صرف ان ممالک کی شہریت رکھنے والے پاکستانی انتخاب میں حصہ لے سکیں گے جن کے ساتھ حکومت نے دوہری شہریت کے معاہدے کر رکھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے سولہ ممالک ایسے ہیں جن سے اس طرح کے معاہدے ہیں۔

قبل ازیں مسلم لیگ نون کے سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ دوہری شہریت رکھنے والوں پر رکن پارلیمان بننے کی پابندی ذوالفقار علی بھٹو نے لگائی تاکہ غیر ملکی اور بااثر لوگ پارلیمان میں نہ آئیں۔ لیکن ان کے بقول آج اس شق کو ان کی ہی جماعت ختم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دوست ممالک کی مداخلت پہلے ہی بہت ہے، کیا اب وزیراعظم اور وزیر دفاع بھی غیر ملکی بنیں گے؟

مسلم لیگ نون کے راجہ ظفرالحق نے بتایا کہ ایران میں جب ان کا نوے فیصد منافع لے جانے والی کمپنی کے حق میں بل منظور ہو رہا تھا تو ڈاکٹر مصدق ایوان میں رو پڑے تھے اور انہوں نے پارلیمان توڑ کر نئے الیکشن کروائے تھے۔

عدالت کو پارلیمان کے منظور کردہ قوانین پر نظر ثانی کا اختیار حاصل ہے: چیف جسٹس

انہوں نے کہا کہ معین قریشی اور شوکت عزیز کو آئے اور شناختی کارڈ یہاں آ کر بنوائے۔ ان کے بقول معین قریشی نے اپنے والدین کی قبریں سرکاری خرچے پر تلاش کروائیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ منہ کالا کرنے سے بچا جائے۔

پیپلز پارٹی کے نور عام خان، جو پارلیمان کے امیر ترین رکن ہیں، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس متعصب ہیں اور تمام فیصلے پیپلز پارٹی کے خلاف کرتے ہیں اور وہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ تعصب کیوں رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا پنجاب حکومت حکم امتنائی پر چل رہی ہے، اس کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟

ادھر قومی اسمبلی میں نجی کارروائی کا دن تھا اور مختلف قوانین میں ترمیم کے چھ بل پیش ہوئے جو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیے گئے جبکہ کافی کارروائی نکتہ اعتراضات پر چلائی گئی۔

نور عالم خان نے کہا کہ چیف جسٹس کی جانب سے پارلیمان کو فضول قرار دینے کے بیان پر انہیں سخت افسوس ہوا ہے۔’کیا ہم اٹھارہ کروڑ عوام کے نمائندے فضول ہیں‘۔

انہوں نے کہا سپریم کورٹ کے رجسٹرار اخراجات کی تفصیل پارلیمان کو فراہم نہیں کر رہے اور یہ زیادتی ہے۔

ان کے ساتھی جمشید دستی نے کہا کہ انہیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا اور جعلی سند کے کیس میں انہیں اپیل کا حق نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی حکومت نے انہیں ڈسا ہے، پنجاب میں چار سو لوگ مارے گئے اور پُل گر رہے ہیں لیک چیف جسٹس اس کا نوٹس نہیں لے رہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here