جماعتِ اسلامی اور طالبان کا ایک مقف

Posted by on Jun 06, 2011 | Comments Off on جماعتِ اسلامی اور طالبان کا ایک مقف

پاکستان میں جماعتِ اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی اور طالبان کا مقف ایک ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جاری امریکہ کی جنگ سے علیحدہ ہوجائے۔

جماعتِ اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا پاکستان میں دہشت گردی اور عسکری تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان پر عائد کی جاتی ہے، جبکہ تحریک طالبان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جاری امریکہ کی جنگ سے الگ ہوجائے۔

منور حسن نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کا بھی یہ ہی مطالبہ ہے اور اس طرح اِن کا اور طالبان کا مقف ایک ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی کو طالبان کے طریقہ کار سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ منور حسن نے کہا طالبان اور ہمارا مقصد ایک ہے۔

سید منور حسن نے مزید کہا کہ پاکستان کی پارلیمان نے بھی کچھ دن پہلے قرارداد میں ڈرون حملوں کو روکنے اور نیٹو کی سپلائی لائن بند کرنے سے متعلق قرارداد منظور کی تھی اور اس طرح پارلیمان کا بھی یہ ہی مقف ہے۔

یہ بات انہوں نے کراچی میں جماعتِ اسلامی کے زیرِانتظام پاکستان میں امریکی مداخلت ، ڈرون حملوں ، مہنگائی بے روزگاری ، کرپشن اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اتوار کو دھرنے کے دوسرے اور آخری روز شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

پاکستان میں دہشت گردی اور عسکری تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان پر عائد کی جاتی ہے، جبکہ تحریک طالبان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جاری امریکہ کی جنگ سے الگ ہوجائے

سید منور حسن

کراچی سے نامہ نگار حسن کاظمی نے بتایا ہے کہ جماعتِ اسلامی نے اس دھرنے کے لیے کراچی کی مرکزی شاہراہوں میں سے شاہراہ ایم اے جناح کا انتخاب کیا تھا۔ دھرنے کا مقام تبت سینٹر کے قریب تھا۔

دھرنے کے شرکا سے جماعتِ اسلامی سندھ کے امیر اسد اللہ بھٹو، اور جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے بھی خطاب کیا۔ جمیعتِ علمائے پاکستان کے سینئر نائب صدر اویس نورانی ، جمیعتِ علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کیقاری عثمان اور جماعت الدعو کے انجینئر نوید قمر بھی اس دھرنے میں شریک ہوئے۔

اتوار کے دھرنے میں جماعتِ اسلامی کے شعبہ خواتین کی جانب سے خواتین اور بچوں کی شرکت کا بھی انتظام کیا گیا تھا اور خواتین کی کافی تعداد اس دھرنے میں شریک تھی۔گزشتہ روز کی نسبت اتوار کو اس دھرنے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک تھے۔

دھرنے کے شرکا سے اپنے خطاب میں امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، امریکہ کی جنگ ہے اور یہ جنگ اگر لڑی جائے گی تو کچھ لوگ غیرقانونی طریقے سے کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی پرامن، قانونی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

ان کے بقول پاکستان کیسارے مسائل کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ ان کے خیال میں ملک کو ایک آزاد خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں بیس سے پچیس ہزار سی آئی اے کے اہلکار کام کررہے ہیں۔

منور حسن نے حکومت پر کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن اور پرتعیش غیر ملکی دوروں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

اپنی تقریر میں انہوں نے ایم کیو ایم پر بھی شدید تنقید کی اور اسے دہشت گرد اور فاشسٹ تنظیم قرار دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین لندن میں کیوں رہتے ہیں کراچی میں کیوں نہیں رہتے۔

اپنی تقریر کے آخر میں انہوں نے کہا ہمیں کشمیریوں کا ساتھ دینا ہوگا جو بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف ہمارے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔

دھرنے کے دوران کچھ بچوں نے شاہد آفریدی کی تصاویر اٹھارکھی تھی جن پر کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ کی برطرفی اور شاہد آفریدی کی بحالی کے حق میں نعرے درج تھے۔

اس سے قبل گزشتہ روز دھرنے کے شرکا سے خطاب کے دوران سید منور حسن نے کہا تھا کہ حکومت اور فوج کو اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذریعے پاکستان پر قبضہ کرلیا ہے۔

میرا مقصد فوج کو گالی دینا نہیں ہے بلکہ غلطیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ ان کے بقول عوام نے اس دھرنے میں شرکت کر کے حکومت کی امریکا نواز پالیسیوں کو مسترد کردیا ہے اور یہ تبدیلی کا آغاز ہے۔

سکیورٹی کی غرض سے دھرنے کے مقام کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس اور جماعتِ اسلامی کے رضاکار تعینات کیے گئے تھے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here