توہینِ عدالت قانون کےخلاف درخواست سماعت کے لیے منظور

Posted by on Jul 15, 2012 | Comments Off on توہینِ عدالت قانون کےخلاف درخواست سماعت کے لیے منظور

پاکستان کی سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت قانون کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظورکرتے ہوئے کیس کی سماعت تیس جولائی تک ملتوی کردی ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے فرنٹیئرکور بلوچستان کو حکم دیا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو دس دن میں پیش کیا جائے ورنہ عدالتی کارروائی کی جائے گی۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگارایوب ترین کے مطابق سپریم کورٹ کی کوئٹہ رجسٹری میں تین رکنی بینچ نے توہین عدالت قانون کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی۔

سپریم کورٹ نے اس نوعیت کے تمام کیسز کو یکجا کرتے ہوئے حکم دیا کہ ان تمام پٹیشنز کی سماعت تیس جولائی کو اسلام آباد میں ہوگی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وہ تیس جولائی تک درخواست میں اٹھائے گئے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں سوالات کا جواب دیں۔

اس تین رکنی بینچ کی سربراہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کر رہے ہیں جبکہ جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس جواد ایس خواجہ بھی بینچ میں شامل ہیں۔

توہین عدالت قانون کو بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر باز محمد کاکڑ نے چیلنج کیا ہے۔ یاد رہے کہ صدرِ پاکستان نے توہینِ عدالت بل پر بارہ جولائی کو دستخط کردیے تھے جس کے بعد یہ قانون بن گیا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے پانچویں روز بھی بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئےایف سی کو تمام لاپتہ افراد کو دس روز میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

باز محمد کاکڑ نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ توہینِ عدالت کا قانون آئین کی بنیادی شقوں سے متصادم ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے دلائل سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ عدالت صبح فیصلہ کرے گی اور شام کو اسے رد کر دیا جائے گا۔

بازمحمد کاکڑ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا آرٹیکل دو اے عدلیہ کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل پچیس کے مطابق تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ملک چلاتے ہیں انہیں آئین کی توہین نہیں بلکہ پاسداری کرنی چاہیے۔

اطہر من اللہ نے بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو نوے کے مطابق تمام ایگزیکٹو اس بات کے پابند ہیں کہ وہ آئین پر عمل کریں۔

“تمام شواہد ایف سی کے خلاف ہیں۔ آپ کمانڈنٹس کو کہیں کہ بندوں کو لے آئیں ورنہ ہم کارروائی کریں گے۔ عدلیہ کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ کے بندوں نے توتک میں کارروائی کی اور چھتیس لوگ اٹھائے گئے جبکہ دو کو مار دیا گیا اور چودہ افراد ایف سی کی تحویل میں ہیں۔ ایف آئی آر رپورٹس سے یوں لگتا ہے کہ ان دو افراد کا انکاو نٹر کیا گیا۔”

چیف جسٹس آف پاکستان

چیف جسٹس نے آئی جی ایف سی میجر جنرل عبیداللہ خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ہر دو یا تین کیسز میں ایف سی پر لوگوں کے اٹھانے کا الزام ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ یہاں ایف سی کے خلاف سنجیدہ اور سنگین الزامات ہیں۔

آئی جی ایف سی کو مخاطب کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ حد ہوگئی ہے۔ ’ایک ماں کہتی ہے کہ چھوٹے بیٹے کو چھوڑ دو اور باقی دو کو رکھ لو۔ اگر وہ پاکستان اور بلوچستان کے خلاف ہے تو عدلیہ آخری سٹیج ہوگی جو سزا دے یا بری کرے اب آگے آپ کی مرضی ہے۔ آپ اپنے کمانڈنٹس کو سمجھائیں گے یا ہم فیصلہ دیں۔ ایف آئی آر ہوگی، مقدمہ ہوگا اس کے بعد قانون کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا اور گرفتاری بھی ہوگی۔‘

’تمام شواہد ایف سی کے خلاف ہیں۔ آپ کمانڈنٹس کو کہیں کہ بندوں کو لے آئیں ورنہ ہم کارروائی کریں گے۔ عدلیہ کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ کے بندوں نے توتک میں کارروائی کی اور چھتیس لوگ اٹھائے گئے جبکہ دو کو مار دیا گیا اور چودہ افراد ایف سی کی تحویل میں ہیں۔ ایف آئی آر رپورٹس سے یوں لگتا ہے کہ ان دو افراد کا انکاو نٹر کیا گیا۔‘

عدالت نے مزید کہا ’ہم دو ماہ سے سب کچھ نظر انداز کررہے ہیں۔ آپ لاپتہ افراد کو کو پیش کریں اور اپنے کمانڈنٹس کو لے آئیں ورنہ ہم ان کے خلاف فیصلہ دیں گے۔‘

آئی جی ایف سی نے مزید بتایا ’توتک واقعہ سے مجھے آگاہ کردیاگیا تھا۔ وہاں بھی کچھ شرپسند تھے اور میں نے اپنے کمانڈنٹ کو حکم دیا کہ علی حسن کے اہلخانہ کو تلاش کرکے تحفظ فراہم کریں۔ یقین سے کہتا ہوں کہ ایف سی کی تحویل میں کوئی بھی شخص نہیں ہے۔‘

آئی جی ایف سی نے بتایا کہ تعیناتی سے لے کر میری خواہش رہی ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کابو میں ایک فراری کیمپ میں جب کارروائی کی گئی تو شدت پسند پہلے ہی وہاں سے بھاگ نکلے۔ ’ٹیلی فونک رابطوں کسے معلوم چلا کہ ان لوگوں کو ہمارے آنے کا پہلے ہی سے علم ہوچکا تھا اور وہ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

عدالت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں آئین کے نفاذ اور شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنائے اور بارودی سرنگیں صاف کی جائیں۔

میڈیا ،سول سوسائٹی وکلاءپر مشتمل وفد ڈیرہ بگٹی جاکر حالات کا جائزہ لے رپورٹ مرتب کرے جس کے بعد عدلیہ اپنا حتمی فیصلہ دے گی۔ عدالت نے کیس کی سماعت تیس جولائی تک ملتوی کردی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here