بھٹو کیس کا جائزہ ٹرائل کورٹ میں ہوگا

Posted by on Jun 28, 2011 | Comments Off on بھٹو کیس کا جائزہ ٹرائل کورٹ میں ہوگا

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے مقدمے میں پھانسی سے متعلق کیس کا ازسر نو جائزہ لینے کے لیے اسے دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بھیجنا ہوگا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ عدالت میں نئے شواہد پیش کیے جائیں۔
یہ بات عدالت نے سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران کہی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا گیارہ رکنی بینچ صدارتی ریفرنس کی سماعت کررہا ہے۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ متعدد ملکوں میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ قتل کے مقدمات کا فیصلہ ہونے کے بعد بھی انہیں دوبارہ سنا گیا اور پھر فیصلے دیے گئے۔
، بینچ میں شامل میاں جسٹس شاکراللہ جان نے کہا کہ جن مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے وہاں کی عدالتوں میں ان مقدمات سے متعلق کوئی نئے شواہد بھی پیش کیے گئے ہوں گے اور ان ملکوں کے آئین میں ایسی گنجائش موجود ہوگی۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے کہا کہ اگر ان کے پاس ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے شواہد موجود ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں تاہم ان شواہد کی جانچ پڑتال بھی ٹرائل کورٹ ہی کرے گی۔انہوں نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے ان ملکوں کے قوانین کو پڑھا ہے جس کا وہ کوئی خاطر خواہ جواب نہ دے سکے۔
بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں صدر کے پاس معافی کا اختیار تو ہے لیکن کیس ری اوپن کرنے کا نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ انہوں نے اب تک جتنے بھی دلائل دیے ہیں وہ صرف ان ججوں کے رویے سے متعلق ہیں جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کی سماعت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان ججوں کے رویے سے متعلق بھی کوئی ٹھوس شواہد عدالت میں پیش نہیں کرسکے۔
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ جج جانبدار تھے اور ذوالفقار علی بھٹو کو صفائی کا موقع بھی نہیں دیا گیا جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جس کا اظہار سابق وزیر اعظم کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی بینچ میں شامل جسٹس ریٹائرڈ نسیم حسن شاہ نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے کہا کہ اگر ان کے پاس ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے شواہد موجود ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں تاہم ان شواہد کی جانچ پڑتال بھی ٹرائل کورٹ ہی کرے گی۔

صدر کے پاس معافی کا اختیار تو ہے لیکن کیس ری اوپن کرنے کا نہیں ہے: عدالت
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ایپلٹ کورٹ کے طور پر اس مقدمے کی سماعت کرسکتی ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ اس ضمن میں دلائل دیں اور اگر عدالت متفق ہوئی تو اس کو ٹرائل کورٹ میں بھجوا دیا جائے گا۔
عدالت میں پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پانچ شکایات درج تھیں جن میں سے تین کا ریکارڈ دستیاب ہے جبکہ جیل میں ہونے والے ٹرائل کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے شفیع الرحمن کی رپورٹ کو عام کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس کا کیا ہوا، جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس کمیشن کی اصل کاپی دستیاب نہیں ہے تاہم اس کی فوٹو کاپیاں موجود ہیں۔
سرکاری وکیل نے منگل کو اپنے دلائل مکمل کرلیے اور اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق بدھ سے اپنے دلائل کا آغاز کریں گے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here