بھٹو کا فلمی فلیش مین انتقال کرگیا

Posted by on Jun 23, 2012 | Comments Off on بھٹو کا فلمی فلیش مین انتقال کرگیا

بھٹو خاندان کے ساتھ تقریباً اکتالیس برس تک ملازم رہنے والے شخص محمد عثمان المعروف فلیش مین سنیچر کو پینسٹھ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

کئی برس ہوئے کہ لاڑکانہ کا ایک لڑکا عثمان سومرو فلموں ميں کام کرنے کے شوق میں گھر سے بھاگ کر کراچی چلا گیا۔

وہ کراچی کے ماڈرن فلم سٹوڈیو میں حاجی قاسم عباس پٹیل کے پاس کام کرنے لگے۔

انہیں فلموں میں ایکسٹرا کا رول بھی مل جایا کرتا تھا لیکن فلم ’سر کٹا انسان ‘ میں ایکسٹرا سے کچھ زیادہ کا رول مل گیا تھا۔

یہ انیس سو ساٹھ کے دہائی کے آخری دن تھے جب ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور حاجی قاسم عباس پٹیل بھی پارٹی میں شامل ہو گئے۔

کئی برس بعد عثمان سومرو نے مجھے ستر کلفٹن کی اوپری منزل پر اپنے کمرے میں ایک انٹرویو کے دوران مجھے بتایا کہ بھٹو نے مجھے دیکھ کر کہا تھا کہ تم یہ فریم صحیح لگا سکتے ہو؟

’بھٹو نے اپنی ذاتی رہائش گاہ کے ایک ڈرائنگ روم میں جن تصاویر کو لگانے کو کہا تھا ان میں ایک تصویر ایوب خان کی بھی تھی۔ بھٹو نے اپنی نظرداری اور خاص زاویوں سے تصاویر کے فریم میرے سے لگوائے۔‘

تزئین و آرائش کے شوقین بھٹو کو ایک ایسے لڑکے کی ضرورت تھی جو ان کے ڈرائنگ روم اور سٹڈی میں تصاویر کے فریم لگا سکے۔ قاسم عباس پٹیل سے بھٹو نے اپنی اس ضرورت کی بات کی تو وہ ایک دن فلم سٹوڈیو میں کام کرنے والے عثمان سومرو کو بھٹو کے پاس لیکر آ گئے۔

فلیشن مین کے مطابق’میں فلموں کے شوق میں گھر سے بھاگ کر آیا تھا اور اب میرے آگے بھٹو صاحب جیسا سب سے بڑا اداکار بیٹھا تھا‘۔

’یہ تب مجھے معلوم ہوا جب صاحب صدر بنے اور میں ان کے ساتھ راولپنڈی چلا آیا۔

میرے صاحب سب سے بڑے اداکار

“’یہ تب مجھے معلوم ہوا جب صاحب صدر بنے اور میں ان کے ساتھ راولپنڈی چلا آیا۔ انہوں نے ایوان صدر میں ایک دن ملک کے تمام مشہور ادا کاروں اور فلمی ستاروں کے اعزاز میں دعوت کی تھی۔ محمد علی، زیبا ندیم ، وحید مراد شبنم وغیرہ۔ اس دن ستاروں کے جھرمٹ میں ییھٹے میرے صاحب کو دیکھ کر مجھے لگا کہ میرے صاحب ان سب اداکاروں میں سب سے بڑے اداکار ہیں”

فلیشن مین

انہوں نے ایوان صدر میں ایک دن ملک کے تمام مشہور ادا کاروں اور فلمی ستاروں کے اعزاز میں دعوت کی تھی۔ محمد علی، زیبا ندیم ، وحید مراد شبنم وغیرہ۔ اس دن ستاروں کے جھرمٹ میں ییٹھے میرے صاحب کو دیکھ کر مجھے لگا کہ میرے صاحب ان سب اداکاروں میں سب سے بڑے اداکار ہیں‘۔

عثمان کو بھٹو نے فلیش مین کا نام دیا تھا کیونکہ بقول عثمان کے ’میں غائب ہوجاتا تھا، صاحب مجھے بلاتے رہتے تھے۔ تو انہوں نے کہا عثمان تم بجلی (آسمانی بجلی) کی طرح آتے ہو اور غائب ہو جاتے ہو۔ تم فلیش مین ہو! تب سے عثمان فلیش مین کے نام سے مشہور ہو گئے‘۔

فلیش مین کے مطابق ’لوگ صاحب کو بہت بڑے لیڈر، وزیراعظم اور صدر کی حیثیت سے دیکھتے تھے اور وہ تھے بھی لیکن میں ان کو ایک اداکار کی طرح دیکھتا تھا۔‘

عثمان نے ہی مجھے بتایا تھا’تمہیں پتہ ہے صاحب کیا بننا چاہتے تھے؟ وہ دلیپ کمار جیسا اداکار بننا چاہتے تھے۔ نرگس ان کے تصور و خواب میں تھی یعنی بقول فلیش مین نرگس بھٹو کی فینٹسی تھی‘۔

بھٹو کی پسند کا گانا ’جھوم جھوم کے ناچو آج گاؤ خوشی کے گیت اور آج کسی کی ہار ہوئی ہے، آج کسی کی جیت‘ تھا۔

عثمان فليش مین بھٹو کے کپڑوں کی الماریوں اور سٹڈی کی دیکھ بھال کے بھی ذمہ دار تھے۔

عثمان کے قومی شناختی کارڈ فارم پر تصدیق کے لیے ذولفقار علی بھٹو نے خود اپنے دستخط کیے تھے۔

بھٹو کے بچپن سے بے تکلف دوست بھارتی صحافی پیلو مودی کو بھی کئي بار فلیش مین نے المرتضیٰ لاڑکانہ میں مہمان دیکھا۔ ایک دفعہ بھٹو صاحب سے کسی بات پر نارض ہو کر پیلو مودی چلنے لگے تو بھٹو صاحب نے ہمیں حکم دیا کہ المرتضیٰ ہاؤس کے سارے گیٹ بند کروا دو اور اس کو جانے نہ دو۔

’ کچھ ملازم اور بھٹو کے سٹاف کے کچھ لوگ میرے سے حسد کرتے تھے اور انہوں نے صاحب کو غلط طور بتایا تھا کہ عثمان خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ ہے۔ صاحب ان کی باتوں پر مسکراتے اور کہتے تھے کہ میں اس کے والد کو بھی جانتا ہوں وہ لاڑکانہ کا سومرو ہے۔ خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ کہاں سے آيا؟

عثمان نے ستر المرتضیٰ لاڑکانہ میں یاسر عرفات، ملکہ اشرف پہلوی اور غلام مصطفیٰ کھر کو بھٹو کے بیڈ روم میں دیکھا تھا۔ فلیشن مین کے بقول ملکہ اشرف پہلوی کو اپنا بیڈ دیکر صاحب بچوں کے کمرے میں سوئے تھے۔

’المرتضیٰ میں ایک سینما ہال تھا۔ جس میں پروجیکٹر پر صاحب فلمیں دیکھا کرتے تھے۔’نائٹس آف جنرلز‘ ان کی پسندیدہ فلم تھی۔ جب بینظیر بھٹو صاحبہ چھٹیوں میں آئیں تو میں نے پہلی دفعہ انہیں صاحب کے ساتھ ندیم کی فلم ’چاند سورج‘ اکھٹے دیکھتے دیکھا تھا۔‘

عثمان نے مجھے بتایا تھا کہ کئي دفعہ مہدی حسن بھی گانے کے لیے آئے۔ ایک دفعہ جب مہدی حسن نے اپنی غزل ’کیسے کیسے لوگ ہمارے دل کو جلانے آ جاتے ہیں‘ سنانے لگے تو بھٹو صاحب کا موڈ خراب ہو گیا اور وہ غزل کے بیچ میں سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here