بشار الاسد کے لیے وقت ختم ہوتا جارہا ہے

Posted by on Jun 07, 2011 | Comments Off on بشار الاسد کے لیے وقت ختم ہوتا جارہا ہے

 

امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے لیے وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام کی حکومت پر عوامی مطالبات ماننے کے ضمن میں دباو ڈالنے کے لیے امریکہ جو کچھ کر سکتا تھا اس نے کیا ہے تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ شام کی صورتحال پر عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عرب لیگ کی طرف سے سخت اور متفقہ ردعمل نہیں آیا ہے۔

اس دوران صدر بشار الاسد کے دس سالہ اقتدار کے خاتمے کے لیے عوامی احتجاج کو کچلنے کے لیے حکومت کی پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔

شام کی حزب اختلاف کے قائدین نے ترکی میں ایک اجلاس کے بعد شامی صدر کی جانب سے بات چیت اور معافی کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے اور ان سے فوری طور پر اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ملک کے وسطی شہر الرستن میں حکومت مخالف مظاہرین پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ شام کے صدر کے لیے وقت ختم ہوتا جا رہا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے ایک کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ رستن، تلبیسا اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے سخت ناکہ بندی کر رکھی ہے، بجلی بند کی ہوئی ہے اور مواصلات کے تمام ذرائع بھی منقطع کردیے ہیں۔ وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا جبکہ سکیورٹی فورسز حکومت کے مخالفین پر متواتر بمباری کر رہی ہیں۔

اس سے پہلے سیاسی کارکنوں نے بتایا تھا کہ الرستن میں حکومتی فوج کی بمباری سے کم از کم پندرہ لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق الرستن میں اس ہفتے کے دوران فوجی کارروائی میں کم سے کم پچاس لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس علاقے میں یہ فوجی کارروائی ملک کے صدر بشر الاسد کی طرف سے عام معافی کے اعلان اور سینکڑوں سیاسی قیدیوں کی رہائی کے باوجود جاری ہے۔

شام کی حکومت کے مخالف گروہ ملک میں پر امن تبدیلی کا راہ عمل تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ حزب مخالف کی مقامی رابطہ کمیٹی نے ان لوگوں کے نام جاری کیے جو ان کے بقول الرستن میں حکومتی فوج کے توپخانے کی بمباری میں ہلاک ہوئے۔

کمیٹی نے کہا کہ فوج کے حملے میں کم سے کم دو مساجد اور ایک بیکری کے علاوہ کچھ گھر بھی تباہ ہوئے۔ ان گھروں میں پورا پورا خاندان ہلاک ہو گیا۔

عینی شاہدوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کئی روز تک شہر کو گھیرے میں لیے رکھنے کے باوجود اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

منگل کو حکومت کی طرف سے مشروط معافی کے اعلان کے بعد سینکڑوں لوگوں کو رہا کیا گیا تھا اور شاید مزید لوگوں کو بھی رہا کیا جائے۔ بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور کے مطابق یہ واضح نہیں کہ حکومت تقریبا دس ہزار کے قریب ان تمام افراد کو رہا کرنا چاہتی ہے یا نہیں جنہیں گزشتہ دس ہفتوں کے دوران پکڑا گیا تھا۔

حکام نے ملک کی صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے شروع ہونے والے مجوزہ مذاکرات کے لیے ایک اعلی سطحی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی کارکنوں کے مطابق مارچ میں صدر اسد کی حکومت کے خلاف شروع ہونے والے مظاروں کے بعد ایک ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

یاد رے کہ شام میں غیر ملکی صحافیوں کا داخلہ منع ہے اس لیے خبروں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here