بریگیڈیئر علی کا کورٹ مارشل مکمل

Posted by on Jun 26, 2012 | Comments Off on بریگیڈیئر علی کا کورٹ مارشل مکمل

پاکستانی فوج میں بغاوت پھیلانے اور ملکی اقتدار پر ناجائز طریقے سے قبضے کی کوشش کے الزامات کا سامنا کرنے والے فوجی افسر بریگیڈیئر علی خان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔

بریگیڈیئر علی کو پچھلے سال چھ مئی کو راولپنڈی سے حراست میں لیا گیا تھا ۔

اس دوران پانچ فوجی افسروں نے استغاثہ کے گواہان کے طور پر بریگیڈیئر علی کے بارے میں عدالت کو بتایا کہ ملزم نے انہیں فوجی اور سول قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسایا تھا۔

فوج کے ایک میجر جنرل کی قیادت میں پچھلے سال دسمبر میں سیالکوٹ میں شروع ہونے والی کورٹ مارشل کی کارروائی قریباً چھ ماہ جاری رہنے کے بعد بیس جون کو راولپنڈی میں اختتام پذیر ہوئی۔

فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں بریگیڈیئر علی خان کا دفاع کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ بیس جون کو انہوں نے عدالت کے سامنے حتمی دلائل دیے جس کے بعد انہیں بتایا گیا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور انہیں اور ان کے مؤکل کو فیصلے سے آگاہ کر دیا جائے گا۔

فوجی قواعد کے تحت مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فوجی عدالت اپنا فیصلہ تحریر کر کے اپنے کمانڈنگ افسر کو ارسال کرے گی، جو اس مقدمے میں گوجرانوالہ کے کور کمانڈر ہیں۔ اس کے بعد عدالتی کارروائی کی تفصیل فوجی سربراہ کو پیش کی جائے گی جس کے بعد ہی اس فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔

فوجی روایات کے مطابق اس سارے عمل میں چند ہفتوں سے لے کر کئی ماہ تک لگ سکتے ہیں اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں بریگیڈیئر علی خان کو موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

“بریگیڈیئر علی فوجی عدالت کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکے تھے لہذا ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی نہیں ہو سکتی۔”

انعام الرحیم

انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی بد نیتی پر مبنی ہے اور بریگیڈیئر علی کو القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی روپوشی اور ان کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے عوامی مطالبے کے باعث انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔

انعام الرحیم نے مقدمے کی سماعت کے دوران فوجی عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ بریگیڈیئر علی فوجی عدالت کی کارروائی شروع ہونے

سے پہلے ہی ریٹائر ہو چکے تھے لہذا ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی نہیں ہو سکتی۔

کرنل انعام الرحیم کے مطابق منگل کے روز لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جج خواجہ امتیاز نے انہیں بتایا کہ ان کی درخواست پر فیصلہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد سنایا جائے گا۔

انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے یہ دونوں نکات لاہور ہائیکورٹ کے سامنے ایک پٹیشن کی صورت میں بھی پیش کیے لیکن چھ مرتبہ جج تبدیل ہونے اور پانچ ماہ تک نوٹسز جاری ہونے کے باوجود پاکستانی فوج نے ان نکات کے جواب عدالت کے سامنے پیش نہیں کیے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here