برہنہ پریڈ: ایس ایچ او اور سب انسپیکٹر معطل

Posted by on Aug 04, 2012 | Comments Off on برہنہ پریڈ: ایس ایچ او اور سب انسپیکٹر معطل

سندھ کے شہر گمبٹ میں ایک مرد اور عورت کو برہنہ پریڈ کرانے کے معاملے میں تھانے کے ایس ایچ او اور چھاپے میں شریک دو سب انسپکٹروں کو معطل کر دیا گیا ہے معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔

 پولیس کی جانب سے دائر ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھا اس لیے پولیس خود مدعی اور گواہ بنی۔

یس پی خیر پور نے ایس ایچ او تھانہ گمبٹ، ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور ایک کانسٹیبل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس حکمنامے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن الزامات کے تحت یہ مقدمہ درج کیا جائےگا۔

اس سے پہلے ایس پی عرفان بلوچ نے کہا تھا کہ اگر پولیس نے برہنہ پریڈ کرائی ہے تو ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایس پی کا کہنا ہے کہ جس جگہ پر پولیس نے چھاپہ مارا وہاں ’فحاشی کا اڈہ‘ تھا لوگوں نے ایس ایچ او کو شکایت کی تھی جب پولیس نے لوگوں کے ساتھ چھاپہ مارا جس کے بعد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

“جس جگہ پر پولیس نے چھاپہ مارا وہاں ’فحاشی کا اڈہ‘ تھا لوگوں نے ایس ایچ او کو شکایت کی تھی جب پولیس نے لوگوں کے ساتھ چھاپہ مارا جس کے بعد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔”

ایس پی عرفان بلوچ

ممتاز میر بحر کا الزام ہے کہ پولیس نے ’منتھلی‘ نہ دینے پر یہ کارروائی کی لیکن ایس پی کا کہنا ہے کہ تاجر کو حراساں کرنے کے لیے یہ نہیں کیا گیا۔

یہ بیٹھک گمبٹ کی کچی آبادی جسے میربحر محلہ کہا جاتا ہے میں واقع ہے۔

جب ہم وہاں پہنچے تو دو کمروں پر مشتمل اس گھر میں دھول جمی ہوئی تھی، ایک کمرے میں چند تکیے پڑے ہوئے تھے جبکہ کسی بھی قسم کے فرنیچر کا کوئی نام و نشان موجود نہ تھا۔

ممتاز میر بحر کا نے بتایا کہ یہ بیٹھک ان کی ملکیت ہے، ان کا گھر تھوڑا دور ہے اور وہ یہ جگہ کرائے پر دینا چاہتے ہیں۔ ممتاز کی سرگرمیوں پر بعض لوگوں کو اعتراض ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اس جگہ پر پہلے بھی چھاپہ مار جا چکا ہے۔

دوسری جانب ملکی سیاست کی ہر چال پر نظر رکھے ہوئے پاکستان کے قومی میڈیا میں یہ واقعہ جگہ نہیں لے سکا ہے، سندھی اخبارات میں بھی چند روز اس کا ذکر فکر رہا اس کے بعد وہاں بھی یہ واقعہ دوسری خبروں کے نیچے آکر دب گیا۔

پرینٹنڈنٹ آف پولیس عرفان بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ میں مزید تحقیقات کی جاری ہیں جبکہ تھانہ انسپیکٹر اور چھاپے میں شریک دو سب انسپیکٹر معطل کر دیے گئے ہیں۔

دریں اثنا اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نعیم کھرل نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے ایس ایس پی خیرپور کو اس واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کی تھی، تاہم انہیں ابھی تک اس کی رپورٹ نہیں ملی ہے۔

خیرپور ضلعے میں کئی غیر سرکاری تنظیمیں سرگرم ہیں لیکن ان میں سے بھی کسی تنظیم کا اس واقعے پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آسکا ہے۔

گمبٹ کے بعض صحافیوں نے بتایا کہ انہوں نے اس واقعے کی خبریں اپنے اداروں تک پہنچائی مگر اداروں کی دلچسپی نہ تھی یا ماہ رمضان کی وجہ سے یہ واقعہ زیادہ کوریج حاصل نہیں کرسکا اس بارے میں وہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here