بدعنوانی اور سکینڈلوں کے کیس سامنے آنے کے بعد بھارت میں کابینہ میں تبدیلی

Posted by on Jul 12, 2011 | Comments Off on بدعنوانی اور سکینڈلوں کے کیس سامنے آنے کے بعد بھارت میں کابینہ میں تبدیلی

بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنی کابینہ میں رد و بدل کرتے ہوئے چار نئے وزرا کو شامل کیا ہے اور کئی اہم وزرا کے قلمدانوں میں تبدیلیاں کی ہیں۔
نئی کابینہ میں سات پرانے وزرا کو شامل نہیں کیا گیا ہے جبکہ خارجہ امور اور خزانہ سمیت چاروں اہم وزارتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
نئے وزرا میں دنیش ترویدی کو ریلوے کا نیا وزیر بنایاگیا ہے جبکہ وی کشور چند دیو کو قبائلی امور اور پنچایتی راج، بینی پرساد ورما کو اسٹیل اور جے رام رمیش کو دیہی ترقی کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔
سلمان خورشید کو وزارتِ قانون اور انصاف کا قلمدان دیا گیا ہے۔ ان کے پاس اقلیتی امور کی وزارت کا اضافی چارج بھی ہو گا۔ جینتی نٹراجن ماحولیات کی نئی وزیر مقرر کی گئی ہیں۔ نئے نوجوان وزرا میں راجیو شکلہ ، ملند دیورا اور جتیندر سنگھ کے نام شامل ہیں۔
وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق، مجموعی طور پر تیرہ نئے وزرا منگل کو حلف اٹھائیں گے۔ دس وزرا کے قلمدانوں میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔
وزیراعظم نے اپنی کابینہ میں حالیہ دنوں میں یہ دوسری بار رد و بدل کیا ہے۔ ان کی حکومت پر حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ تجزیہ کاروں اور ماہرین کی جانب سے ایک عرصے سے یہ تنقید کی جارہی ہے کہ وہ گزشتہ حکومت کے مقابلے میں اس بار ست روی کا شکار ہو چکی ہے۔ایس ایم کرشنا وزیر خارجہ، پرنب مکھرجی وزیر خزانہ، پی چدامبرم وزیر داخلہ اور اے کے اینٹونی وزیر دفاع کے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ کپل سبل بھی انسانی وسائل اور ٹیلی مواصلات کے وزیر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہیں گے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ کابینہ میں یہ تبدیلی ممتا بنرجی کے استعفے اور بدعنوانی کے معاملوں میں بعض وزرا کے نام آنے اور ان کے خلاف مقدمات درج کیے جانے کے بعد ضروری ہو گئی تھی۔
وزیراعظم نے اپنی کابینہ میں حالیہ دنوں میں یہ دوسری بار رد و بدل کیا ہے۔ ان کی حکومت پر حزبِ اختلاف کے ساتھ تجزیہ کاروں اور ماہرین کی جانب سے ایک عرصے سے یہ تنقید کی جارہی ہے کہ وہ گزشتہ حکومت کے مقابلے میں اس بار ست روی کا شکار ہو چکی ہے۔
اقتصادی ترقی کے عمل میں جو تیزی آئی تھی اور مختلف شعبوں میں اصلاحات کا جو عمل شروع ہوا تھا وہ اب سست پڑ چکا ہے۔
وزیر اعظم کابینہ میں ان تبدیلیوں کے ذریعے کام کاج کے عمل کو متحرک کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کی حکومت گزشتہ کئی مہینوں سے بدعنوانی کے مختلف سکینڈلوں میں پھنسی رہی ہے اور اب وہ ان تبدیلیوں کے ساتھ اپنی ساکھ بھی بہتر کرنے کی کوشش کرے گی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here