بجٹ پر بحث میں کوئی دلچپسی نہیں

Posted by on Jun 07, 2012 | Comments Off on بجٹ پر بحث میں کوئی دلچپسی نہیں

یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کا بجٹ تو حکومت نے پارلیمان میں پیش کردیا ہے اور دونوں ایوانوں میں بحث بھی جاری ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بجٹ میں حکومتی اراکین کی کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی اپوزیشن کی۔

حکمران پیپلز پارٹی کے جمشید دستی کی تقریر کا محور مسلم لیگ (ن) اور پنجاب کی حکومت پر تنقید اور سرائیکی صوبے کی تشکیل رہا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے دو اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کو شامل کیے بنا سرائیکی صوبہ قبول نہیں۔

جمشید دستی نے بجٹ پر تقریر کے دوران کہا کہ چیف جسٹس کے بیٹے کو تیس سے چالیس کروڑ روپے دے کر کاروبار کے چکر میں پھنسانے کے معاملے سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کا تصادم جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اس لیے وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔

حکومت کا تعلق نہیں

جمشید دستی نے بجٹ پر تقریر کے دوران کہا کہ چیف جسٹس کے بیٹے کو تیس سے چالیس کروڑ روپے دے کر کاروبار  کے چکر میں پھنسانے کے معاملے سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کا تصادم جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اس لیے وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے

قومی اسمبلی میں دو بار کورم ٹوٹا اور اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔

تین سو بیالیس اراکین والے قومی اسمبلی کے ایوان میں کورم پورا رکھنے کے لیے چھیاسی اراکین کی حاضری لازم ہے لیکن دو سو سے زائد اراکین کی حمایت والی حکومت کورم بھی پورا نہیں کر پائی۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن چوہدری سعود مجید نے مختلف اوقات میں دو بار کورم کی نشاندہی کی اور جب گنتی کرائی گئی تومطلوبہ تعداد میں اراکین موجود نہیں تھے اور اجلاس کی کارروائی معطل کرنی پڑی۔

بعد میں پارلیمان کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمٰن ملک اور وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے بھی حکومت پر چیف جسٹس کے بیٹے کے سکینڈل کے حوالے سے لگنے والے الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ یہ دو افراد ( ارسلان افتخار اور ملک ریاض) کا معاملہ ہے۔

حکومت کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی عدیل نے بجٹ پر بحث کے دوران کہا کہ’میڈیا چیف جسٹس کوبھی معاف نہیں کر رہا اور آج دوسروں کو طلب کرنے والے کو اپنے بیٹے کو بلانا پڑا ہے

انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر تو چیف جسٹس کو اپنے بیٹے کا کیس خود نہیں سننا چاہیے۔

شام گئے جب سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو اس میں بھی بجٹ پر بحث ہوئی۔ ایک سو چار اراکین والے اس ایوان میں بھی اراکین کی حاضری اتنی اچھی نہیں تھی۔ سینیٹ میں تو وزارء بھی موجود نہیں تھے جس پر حاصل بزنجو اور حاجی عدیل نے اعتراض کیا کہ وزراء ایوان کی کارروائی کو سنجیدہ نہیں لیتے۔

جس پر قائم مقام سینیٹ چیئرمین صابر بلوچ نے برہمی ظاہر کی اور قائد ایوان جہانگیر بدر کو ہدایت کی وہ وزراء کی حاضری یقینی بنائیں۔

بدھ کو تقریباً ڈھائی گھنٹے اجلاس کی کارروائی چلی جس میں چھ اراکین نے بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیا۔ بحث کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے فاروق ستار نے پیٹرولیم مصنوعات پر محصول کم کرنے اور سیلز ٹیکس کی شرح سولہ فیصد سے کم کر کے بارہ فیصد کرنے کی تجاویز پیش کیں۔

 

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here