بابا رام دیو لائیو

Posted by on Jun 05, 2011 | Comments Off on بابا رام دیو لائیو

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں گزشتہ دو مہینوں سے کچھ ایسا ہو رہا ہے جس کی کسی نے کبھی توقع نہیں کی ہوگی، ملک کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ستیہ گرہ کی واپسی ہوئی ہے اور حکومت سول سوسائٹی کے سامنے کمزور اور بے بس نظر آرہی ہے۔
ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

ورلڈ کپ کرکٹ میں بھارت کی فتح کے صرف ایک دن بعد جب سماجی کارکن انا ہزارے نے دلی کے تاریخی جنتر منتر پر بدعنوانی کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی توحکومت سمیت کسی نے انہیں زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔

لیکن ان کی تحریک نے ملک بھر میں بہت سے لوگوں کے دلوں کو چھوا، اور بدعنوانی سے ناراض و پریشان لوگ سڑکوں پر نکلنا شروع ہوگئے۔ بڑے بڑے گھپلوں کے الزامات سے پریشان حکومت نے اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے کہ وہ بدعنوانی سے نمٹنے میں سنجیدہ نہیں ہے، انا ہزارے کے مطالبات مان لیے۔

یہ تحریک کامیابی کے ساتھ ختم ہوئی اور اس سے یہ پیغام گیا کہ سول سوسائٹی طاقتور حکمرانوں کو بھی جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
انا ہزارے

انا ہزارے ملک کے سرکردہ گاندھیائی رہنما ہیں

آزاد ہندوستان میں ایسی اور بھی کئی نظیریں ہیں لیکن سب سے مشہور ستر کی دہائی میں سماجوادی رہنما جے پرکاش کی مکمل انقلاب کی تحریک تھی جس کے نتیجہ میں ملک سے ایمرجنسی اور اندرا گاندھی کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
بابا رام دیو سے ملنے وزرا کیوں گئے؟

انا ہزارے غیر معروف تھے، زیادہ لوگ انہیں نہیں جانتے تھے، شاید اسی وجہ سے حکومت دھوکہ کھا گئی۔ اور شاید اسے اس بات کا بھی اندازہ نہیں تھا کہ روز بڑھتی ہوئی مہنگائی سے لوگ کتنے پریشان ہیں اور جب ایسے میں اربوں ڈالر کے گھپلوں کی خبریں آتی ہیں تو زندگی کی کشمکش میں الجھے ہوئے عام آدمی پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے۔

لیکن حکومت یہ غلطی دہرانا نہیں چاہتی۔ اور اس مربتہ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ بابا رام دیو کے ماننے والے پورے ملک میں موجود ہیں۔ یعنی ان کی طاقت کو کم سمجھنے کی غلطی نہیں کی جاسکتی۔ اور اگر بابا رام دیو کے چاہنے والوں کے ساتھ بدعنوانی، غربت اور مہنگائی سے پریشان عام لوگ بھی جڑ گئے تو بات دوبارہ ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔

اسی لیے وہ بھوک ہڑتال شروع ہونے سے پہلے ہی اسے روکنے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن اس مرتبہ اس کی حکمت عملی دوسری انتہا پر نظر آرہی ہے۔ بابا رام دیو سے بات چیت کے لیے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی سمیت چار سینیئر وزرا کو دلی ہوائی اڈے بھیج کر اس نے بابا رام دیو کی طاقت اور اپنی پریشانی دونوں کا اعتراف کیا ہے۔
بابا رام دیو

بابا رام دیو بھارت کے معروف یوگا گرو ہیں

حکومت کو ڈر ہے کہ ایک اور بڑی تحریک سے، جو انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کی طرح چوبیسوں گھنٹے ٹی وی پر لائیو نشر کی جائے گی، لوگوں کے ذہن میں اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ وہ بدعنوانی کو نظرانداز کرتی ہے۔
ان تحریکوں کے خلاف کون ہے؟

انا ہزارے اور بابا رام دیو نے جو سوال اٹھائے ہیں ان سے تو کوئی اختلاف نہیں کرسکتا۔ دونوں کا مطالبہ ہے کہ بدعنوانی کی روک تھام اور بیرون ملک بینکوں میں جمع بھارتی شہریوں کا کالا دھن واپس لانے کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کرے۔

عام طور پر لوگ ان مطالبات سے تو اتفاق کرتے ہیں لیکن بہت سے مبصرین کو اس بات پر تشویش ہے کہ سول سوسائٹی نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ بلیک میل کے مترادف ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قانون سازی حکومت کا کام ہے، اس عمل میں صلاح مشورہ تو وسیع پیمانے پر ہونا چاہیے لیکن قانون سازی کی ذمہ داری سول سوسائٹی کے ہاتھوں میں نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی ایک جمہوری نظام حکومت میں سول سوسائٹی کو حزب اختلاف کا رول اختیار کرنا چاہیے۔

دلچسپ بات یہ ہیکہ جب سے انا ہزارے اور اب بابا رام دیو کی تحریکیں سرخیوں میں آئی ہیں، بڑی سیاسی جماعتوں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ انہوں نے کھل کر زیادہ کچھ نہیں کہا۔ شاید ان کی مجبوری یہ ہے کہ جو کام انہیں کرنا چاہیے، وہ سول سوسائٹی کے نمائندے کر رہے ہیں۔
یہ محاذ آرائی کیسے ختم ہوگی؟

بات اب بہت آگے بڑھ گئی ہے۔ بابا رام دیو کے تمام مطالبات تو حکومت کے لیے تسلیم کرنا ممکن نہیں ہوگا لیکن اس کی کوشش کوئی ایسا فارمولہ نکالنے کی ہوگی جس سے اس کی مزید بدنامی نہ ہو اور رام دیو بھی مان جائیں۔

لیکن یہ بات تقریبا طے ہے کہ سنیچر سے یہ بھوک ہڑتال شروع ضرور ہوگی کیونکہ رام دیو کو معلوم ہے کہ حکومت اس وقت دبا میں ہے اور وہ اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

اور جب تک یہ تحریک چلے گی، ٹی وی چینلوں پر اس کی چوبیسیوں گھنٹے لائیو کوریج بھی جاری رہے گی۔ کچھ عامر خان کی فلم پپلی لائیو کی طرح جس میں غربت کا شکار نتھا نام کا ایک کسان خود کشی کی دھمکی دیتا ہے اور اس کی زندگی میڈیا پر ایک تماشہ بن جاتی ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here