ایک مسلم مصور ہندو دیوی دیوتاں اور علامتوں کو اپنی مصوری کا پیکر کیسے بنا سکتا ہے۔

Posted by on Jun 10, 2011 | Comments Off on ایک مسلم مصور ہندو دیوی دیوتاں اور علامتوں کو اپنی مصوری کا پیکر کیسے بنا سکتا ہے۔

بھارت میں چند برس قبل ملک کے معروف مصور مقبول فدا حسین کے خلاف جب سخت گیر ہندو تنطیموں کی مہم شروع ہوئی تو کچھ دانشوروں اور مصوروں کے علاوہ سبھی خاموش رہے۔

سخت گیر ہندوئیت کے علم برداروں کے ذہن میں یہ بات ایک عرصے سے خلش پیدا کر رہی تھی کہ ایک مسلم مصور ہندو دیوی دیوتاں اور علامتوں کو اپنی مصوری کا پیکر کیسے بنا سکتا ہے۔

ایم ایف حسین کی شخصیت پر ایک نظر

یہ تنظیمیں ایک عرصے سے ایم ایف حسین کو نشانہ بنانے کی تاک میں تھیں اور یہ بہانہ انہیں اس وقت مل ہی گیا جب ان کی ایک برہنہ تصویر کو ایک ہندو دیوی سے منسوب کیا گیا۔

ہندوئیت کے علم بردار مفکروں دانشوروں اور مصوروں کی دلیل یہ نہیں تھی کہ مذہبی علامتوں کو مصوری کا سبجیکٹ نہیں بنانا چاہئے کیونکہ اگر وہ یہ دلیل دیتے تو وہ پھر کھجراہو کے مندروں کی عظیم سنگی نقاشیوں اور مصوری کی عظیم انسانی تخلیق کو کس خانے میں رکھتے۔

ایم ایف حسین کی پینٹنگز کی نمائشوں پر حملے ہونے لگے، انہیں دھمکیاں دی جانے لگیں۔ اوران کے خلاف پورے ملک میں ایک باضابطہ مہم کے تحت سینکڑوں مقدمے دائر کییگئے۔ بالآخر بر صغیر کے اس عظیم مصورکو اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔ دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا ڈنکا پیٹنے والی بھارت کی حکومت اظہار کی آزادی کی شکست کا تماشہ دیکھتی رہی۔

ان کی دلیل یہ تھی کہ کیا ایم ایف حسین اسلامی شخصیات پر بھی اسی طرح کی مصوری کر سکتے ہیں۔ یہ دلیل اگر اعتدال پسندوں کی جانب سے دی گئی ہوتی تو شاید اس پر بحث بھی ہوسکتی تھی۔ لیکن یہاں توکچھ اور مقصود تھا۔

ایم ایف حسین کی پینٹنگز کی نمائشوں پر حملے ہونے لگے، انہیں دھمکیاں دی جانے لگیں اوران کے خلاف پورے ملک میں ایک باضابطہ مہم کے تحت سینکڑوں مقدمے دائر کییگئے۔

بالآخر بر صغیر کے اس عظیم مصورکو اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔ دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا ڈنکا پیٹنے والی بھارت کی حکومت اظہار کی آزادی کی شکست کا تماشہ دیکھتی رہی۔

حکومت کی جانب سے پہلا ردِعمل اس وقت آیا جب مصوری کی دشمن سمجھی جانے والی قطر کی اسلامی مملکت نے ایم ایف حسین کو ملکی کی شہریت دینے کا اعلان کیا۔

یہ بھارت کے اعتدال پسندوں کے منہ پر ایک تماچہ تھا۔ ایم ایف حسین کی موت جلا وطنی میں ہوئی یہ بھارت کی رواداری اور جمہوری قدروں کی شکست و ریخت کی علامت ہے۔

حسین عدالتی کارروائیوں سے پریشان رہتے تھے

گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں آرٹ، ادب اور مذہب میں تنگ نظری بری طرح سرائیت کر گئی ہے۔ چند برس قبل جب معروف مصنف خشونت سنگھ نے ایک ادبی سیمینار میں رابندر ناتھ ٹیگور کی انگریزی زبان کی سمجھ پر کچھ تنقیدی جملے کہے تو اس کی اتنی شدت سے نکتہ چینی ہوئی کہ انہیں معافی مانگنی پڑی۔

مہاراشٹر کے دور وسطی کے مراٹھا راجہ شیوا جی ایک مذہبی کردار اختیار کر چکے ہیں۔ ان پر کسی طرح کی ریسرچ اور تنقیدی جملے کہنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ شیواجی پر لکھی گئی کئی کتابوں پر پابندی عائد ہے اور کئی کتابوں سیاقتباسات حذف کرنے پڑے ہیں۔

گاندھی جی کی زندگی کے ذاتی پہلووں پر کچھ کہنا اور لکھنا شجر ممنوعہ ہے۔ فلموں کی کہانیوں میں گاندھی فیملی کے کسی فرد سے مماثلت کا شک ہونے پر فلم کی ریلیزسے پہلے خصوصی شوکا انقعاد کرناپڑتا ہے۔ مصور کو اپنیکسی تصور کو فن پارے کا روپ دینے سے قبل کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔

ایک طرف حکومت نے تسلیمہ نصرین کو ملک میں پناہ دے رکھی ہے تو دوسری جانب ان کے بولنے اور لکھنے پر پابندی عائد ہے۔ وہ مسلمان جو ایم ایف حسین کی حمایت کر رہے ہیں وہی لوگ تسلیمہ کو ملک سے نکال دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آج بھارت میں ادب اور آرٹ تنگ نظری کی گرفت میں ہیں۔ کسی جمہوری معاشرے کی اساس صرف اظہار آزادی ہی نہیں ہوتی۔ جمہوری قدریں اس وقت فروغ پاتی ہیں جب اس معاشرے کے لوگ اختلافات کے ساتھ جینے اور اختلافات کا احترام کرنے کا گر سیکھتے ہیں۔

بھارت جس طرح ایم ایف حسین کے ساتھ پیش آیا ہے وہ یقینا تنگ نظری کی فتح کا عکاس ہے۔ آرٹ اور ادب کو اب اپنا دامن بچا کر چلنا ہوگا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here