ایک اکیلی جان اور سارا پاکستان۔وسعت اللہ خان

Posted by on Jul 20, 2011 | Comments Off on ایک اکیلی جان اور سارا پاکستان۔وسعت اللہ خان

بی بی سی کے نامہ نگاروںنے وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک کے اوپر ایک رپورٹ بنائی ہے۔
پاکستان کو قدرت نے حالیہ برسوں میں جن جن نعمتوں سے نوازا ہے ان میں وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک بھی شامل ہیں۔
اٹھارہ کروڑ لوگوں پر مشتمل اس ملک کو امن و امان نگلنے والے جن اژدھوں نے گھیر رکھا ہے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے رحمان ملک جیسا غیرمعمولی صلاحیتوں کا آدمی انتہائی موزوں ہے۔ اس نعمت پر مالک کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
اچھا وزیرِ داخلہ وہ ہوتا ہے جو ہمہ وقت مستعد ہو اور ملک صاحب کی آنکھیں تو ریڈار کی طرح مسلسل گھومتی رہتی ہیں۔ یوں وہ آگے پیچھے، دائیں بائیں، اوپر نیچے ہر طرح کے حالات پر مسلسل نگاہ رکھ سکتے ہیں۔
دوم یہ کہ ان کی پھرتیاں، ایفی شنسیاں اور آنیاں جانیاں الہ دین کے جن سے بھی سوا ہیں۔ جہاں ضرورت نہ ہو وہاں چراغ رگڑے جانے سے پہلے پہنچتے ہیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں بھی بالاخر پہنچ ہی جاتے ہیں۔

غالب نے رحمان ملک کے لئے پونے دو سو برس پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ
میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
رحمان ملک صاحب کی تیسری خوبی جو انہیں پاکستان کی چونسٹھ سالہ تاریخ میں آنے والے تمام وزرا داخلہ سے ممتاز و یکتا بناتی ہے یہ ہے کہ سابقین تو امن و امان کا علاج بذریعہ ڈنڈا کر کے بعد میں رپورٹ طلب کرتے تھے لیکن ملک صاحب ابتری کا علاج ہی بذریعہ رپورٹ کرتے ہیں۔ ہر واردات کی فوری رپورٹ۔ کئی مرتبہ تو لگتا ہے گویا واردات سے پہلے ہی رپورٹ مانگ بیٹھے ہیں۔
حاسدین کہتے ہیں کہ ملک صاحب اس کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ حاسدین کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ رحمان ملک سے زیادہ قصور وار حالات و واقعات ہیں جو اتنی تعداد میں اور اس قدر تیزی سے رونما ہو رہے ہوتے ہیں کہ ملک صاحب کا بیشتر وقت ان کی رپورٹیں طلب کرنے میں ہی گزر جاتا ہے۔ چہ جائیکہ ان رپورٹوں کو پڑھ کر ان پر ایکشن لیا جائے۔
اگر آپ کبھی ان کے دفتر جائیں تب آپ کو اندازہ ہوگا کہ وہاں ہر وقت کیسی رپورٹا رپورٹی مچی ہوتی ہے۔
رحمان ملک صاحب کی تیسری خوبی جو انہیں پاکستان کی چونسٹھ سالہ تاریخ میں آنے والے تمام وزرا داخلہ سے ممتاز و یکتا بناتی ہے یہ ہے کہ سابقین تو امن و امان کا علاج بذریعہ ڈنڈہ کر کے بعد میں رپورٹ طلب کرتے تھے لیکن ملک صاحب ابتری کا علاج ہی بذریعہ رپورٹ کرتے ہیں۔ ہر واردات کی فوری رپورٹ۔ کئی مرتبہ تو لگتا ہے گویا واردات سے پہلے ہی رپورٹ مانگ بیٹھے ہیں۔فوری رپورٹ طلب کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد پر اگر کوئی ایکشن لے بھی لیا بھی جائے تو اس کی زد میں کوئی بے گناہ نہ آجائے۔ یہ دوسری بات کہ اس چکر میں گناہ گار اکثر رفوچکر ہو جاتے ہیں۔
ملک صاحب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ قوم کا حوصلہ برقرار رکھنے کے لئے ہر واردات کا روشن پہلو بتانا کبھی نہیں بھولتے۔ مثلا تین برس پہلے جب اسلام آباد کا میریٹ ہوٹل دھماکے سے نیم مردہ ہوگیا اور درجنوں ہلاک ہوئے تو یہ ملک صاحب ہی تھے جنہوں نے کہا کہ اصل میں تو خودکش ٹرک کا ہدف ایوانِ وزیرِ اعظم تھا۔ وہ تو شکر کریں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مستعدی سے گھبرا کر خودکش بمبار میریٹ میں گھس گیا۔
پشاور میں پچاس افراد کا ہلاک ہونا یقینا قابلِ مذمت ہے لیکن اسی دن ہم نے وہاں دو اور خودکش بمبار پکڑ لیے ورنہ تو دو ڈھائی سو افراد مارے جانے تھے۔
کراچی میں ایک دن میں اکتالیس افراد کی ہلاکت گھنانا فعل ہے لیکن الحمدللہ ہم نے گیارہ ٹارگٹ کلرز پکڑ لئے ہیں ورنہ تو نہ جانے کراچی کا کیا حشر ہوتا۔
اس قدر مصروفیت اور فعالیت کے نتیجے میں آدمی کی یادداشت بھی اتھل پتھل ہو سکتی ہے۔ رحمان ملک بھلے سپرمین سہی لیکن ہیں تو انسان ہی نا۔ چنانچہ یہ بھی ہوتا ہے کہ رحمان ملک جب بھی کراچی آتے ہیں متحارب گروہوں اور تنظیموں کو الٹی میٹم ضرور دیتے ہیں کہ اگر اڑتالیس گھنٹے میں حالات ٹھیک نہ ہوئے تو شر پسندوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔
اگر ٹارگٹ کلنگ چوبیس گھنٹے میں نہ رکی تو رینجرز کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے اختیارات دے دیے جائیں گے۔ کراچی کے حالات اگلے ایک ماہ میں بہتر ہوجائیں گے۔
اس ملک میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آدمی اگر باصلاحیت اور ذہین ہو تو اس کا بوجھ ہلکا کرنے کے بجائے اس پر اضافی کام لاد دیے جاتے ہیں۔ یہی ذیادتی رحمان ملک صاحب کے ساتھ بھی ہو رہی ہے۔ وزارتِ داخلہ کی ذمہ داریاں کیا کم ہیں کہ ان پر روٹھے ہوں کو منانے اور ثالثی کا بوجھ بھی لاد دیا گیا ہے۔گزشتہ تین برس میں ملک صاحب اتنے الٹی میٹم اور ڈیڈ لائنز دے چکے ہیں کہ اب تو انہیں اپنے اسسٹنٹ سے پوچھنا پڑتا ہے کہ میں نے فلاں تاریخ کو کتنے دن یا گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا اور کس پارٹی کو دیا تھا بھلا ؟؟؟
رحمان ملک دست شناسی میں بھی یدِ طولی رکھتے ہیں۔ امنِ عامہ کی ابتری میں ملک صاحب اندرونی ہاتھ سے بہت پہلے بیرونی ہاتھ دیکھ لیتے ہیں۔ سوات کے طالبان ہوں کہ سری لنکن ٹیم پر حملے کی واردات کہ بلوچستان کی شورش۔ سب سے پہلے ان کے پیچھے بیرونی ہاتھ رحمان ملک صاحب نے ہی دیکھا۔ تازہ ترین کشف کراچی کے بارے میں ہوا ہے جہاں بقول ملک صاحب جدید اسرائیلی اسلحہ پکڑا گیا ہے جو شہر کے حالات کی ابتری میں بیرونی ہاتھ کی واضح نشاندہی ہے۔
اس مرتبہ بھی دہشتگرد ذہانت کے استعمال میں ملک صاحب سے پیچھے رہ گئے اور ہاتھ کے نشان چھوڑ گئے۔ کاش یہ دہشتگرد اسرائیلی اسلحہ استعمال کرنے کے بجائے واہ آرڈیننس فیکٹری کو ہی آرڈر بھجوا دیتے۔ کم از کم ملک کا پیسہ ایک یہودی ریاست کو تو نا جاتا۔
تو کیا اب اسرائیل سے سرکاری سطح پر بذریعہ ترکی احتجاج کیا جائے گا یا نہیں ؟؟؟
رحمان ملک نے دوسرے سانس میں یہ انکشاف بھی کیا کہ کراچی کے ٹارگٹ کلرز بھی بیرونِ ملک سے آتے ہیں۔ لیکن ملک صاحب نے اسلحے کے برعکس ٹارگٹ کلرز بھجوانے والے ملک یا ممالک کا نام لینے سے بوجوہ گریز کیا۔ مبادا جنوبی افریقہ ناراض ہوجائے۔
اس ملک میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آدمی اگر باصلاحیت اور ذہین ہو تو اس کا بوجھ ہلکا کرنے کے بجائے اس پر اضافی کام لاد دیے جاتے ہیں۔ یہی ذیادتی رحمان ملک صاحب کے ساتھ بھی ہو رہی ہے۔ وزارتِ داخلہ کی ذمہ داریاں کیا کم ہیں کہ ان پر روٹھے ہوں کو منانے اور ثالثی کا بوجھ بھی لاد دیا گیا ہے۔
زرداری گیلانی انتظامیہ کو کچھ تو خیال کرنا چاہیے کہ،ایک اکیلی جان، اس پہ سارا پاکستان ۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here