این آر او کیس: نئے وزیر اعظم سے بھی جواب طلب

Posted by on Jun 27, 2012 | Comments Off on این آر او کیس: نئے وزیر اعظم سے بھی جواب طلب

پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے جواب طلب کیا ہے۔

عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا بھی حوالہ دیا ہے اور کہا کہ اسی مقدمے میں عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر اُنہیں نااہل قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل عرفان قادر سے پوچھا کہ کیا نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سوئس عدالتوں میں مقدمات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھیں گے۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت نے این آر او کے مقدمے میں کسی بھی وزیر اعظم کو براہ راست احکامات جاری نہیں کیے تھے کہ وہ سوئس حکام کو خط لکھیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ وہ این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے کا دوبارہ مطالعہ کریں اور اُس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سوئس حکام کو خط لکھا جائے۔

سپریم کورٹ نے نئے وزیر اعظم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا کہ وہ سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق عدالتی حکم پر عمل کریں گے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احمد ریاض شیخ اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے سابق سر براہ عدنان خواجہ کے وکیل عبدالباسط کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل پہلے ہی نوکریوں سے فارغ ہو چکے ہیں اس کے علاوہ اُنہوں نے سزا بھی بھگت لی، جرمانہ بھی ادا کردیا اب اس مقدمے کو ختم ہونا چاہیے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل عرفان قادر سے کہا ہے کہ وہ نئے وزیر اعظم کو سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق پہلے سے موجود عدالتی حکم نامے سے آگاہ کریں اور اس ضمن میں وزیر اعظم کے جواب سے سپریم کورٹ کو بھی آگاہ کریں۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

بینچ کے سربراہ جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ جب تک قومی احستاب بیورو کی طرف سے حتمی رپورٹ نہیں آجاتی اُس وقت تک اس مقدمے کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

 بینچ میں موجود جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے عدالت میں جواب جمع کروایا گیا تھاکہ وہ عدنان خواجہ کو نہیں جانتے حالانکہ یوسف رضا گیلانی اور عدنان خواجہ ایک ساتھ اڈیالہ جیل میں رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ کیسے مان لیا جائے کہ سابق وزیر اعظم کو عدنان خواجہ کی سزا کے بارے میں علم نہیں تھا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے خلاف کوئی ریفرنس بھیجا گیا ہے جس پر ملک قیوم کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل برطانیہ کے ایک ہستپال میں زیر علاج ہیں جس کی تصدیق برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن نے کی ہے۔

یاد رہے کہ ملک قیوم نے بطور اٹارنی جنرل سوئس حکام کو خط لکھا تھا کہ این آر او کے تحت سوئس مقدمات بھی ختم کردیے گئے ہیں اور اس لیے حکومت ان مقدمات کی پیروی میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ اس مقدمے کی سماعت بارہ جولائی تک ملتوی کردی گئی ۔

ملک قیوم ہسپتال میں ہیں

عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے خلاف کوئی ریفرنس بھیجا گیا ہے جس پر ملک قیوم کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل برطانیہ کے ایک ہستپال میں زیر علاج ہیں جس کی تصدیق برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن نے کی ہے۔

واضح رہے کہ این آر او عملدرآمد کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو این آر او مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیے تھے۔

ان درخواستوں کی سماعت پر سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر وزیراعظم گیلانی کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کے احکامات کے روشنی میں چھبیس اپریل سے نااہل قرار دیا گیا ہے۔

بعد ازاں انہیں اس جرم کا مرتکب قرار دے کر عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی تھی تاہم سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو اس سزا کی بنیاد پر نااہل قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم کی اہلیت سے متعلق سپیکر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here