ایفیڈرین کیس: مخدوم شہاب کے وارنٹ جاری

Posted by on Jun 22, 2012 | Comments Off on ایفیڈرین کیس: مخدوم شہاب کے وارنٹ جاری

راولپنڈی کی انسداد منشیات کی عدالت نے ایفیڈرین کوٹہ کیس میں وزارتِ عظمیٰ کے لیے حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد اُمیدوار مخدوم شہاب الدین کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور رکنِ قومی اسمبلی علی موسی گیلانی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔

اس مقدمے کی تفتیش اے این ایف راولپنڈی زرون کے سربراہ بریگیڈیئر فہیم کر رہے ہیں ۔ وفاقی حکومت نے اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے مذکورہ افسر کو تبدیل کردیا تھا اور انسداد منشیات ڈویژن کے سیکرٹری ظفر عباس لک کو اس مقدمے کی تفتیش سونپی تھی تاہم سپریم کورٹ کے حکم پر بریگیڈیئر فہیم کو اس مقدمے کی تفتیش جاری رکھنے کو کہا گیا تھا۔

تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ان افراد کے خلاف سابق ڈائریکٹر ہیلتھ رشید جمعہ کے بیان کو بنیاد بنایا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مخدوم شہاب الدین نے بحثیت وزیر صحت ایک ادویات ساز کمپنی کو اُس کے کوٹے سے زیادہ ایفیڈرین کی مقدار دینے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کیا۔

اس معاملے کی تفتیشی ٹیم کے ارکان نے انسداد منشیات کی عدالت کے جج شفقت اللہ خان سے مخدوم شہاب الدین اور علی موسی گیلانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی تھی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

سابق ڈائریکٹر ہیلتھ ان دنوں اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں اینٹی نارکوٹکس فورس کی حراست میں ہیں۔ مخدوم شہاب الدین کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ اُن کا ایفیڈرین کیس سے کوئی تعلق نہیں۔

تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق علی موسی گیلانی نے اپنے والد کے عہدے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایفیڈرین کوٹہ حاصل کرنے کے لیے وزارت صحت کے حکام پر دباؤ ڈالا۔

اے این ایف نے اس مقدمے کی تفتیس کے سلسلے میں مخدوم شہاب الدین اور علی موسی گیلانی کو متعدد بار پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی یا سینیٹ کا اجلاس چل رہا ہو تو گرفتار ہونے والے رکن پارلیمنٹ کو اجلاس کے دوران طلب کیا جا سکتا ہے۔

بریگیڈئیر فہیم کے مطابق اُنہیں وزیر اعظم ہاؤس طلب کر کے اس مقدمے کی تفتیش نہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے سابق پرنسپل سیکرٹری خوشنود اختر لاشاری نے اس مقدمے میں سے علی موسی گیلانی کا نام نکالنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

تفتیشی ٹیم نے مذکورہ بیوروکریٹ کو بھی طلب کرکے اس سے پوچھ گچھ کی تھی۔ سپریم کورٹ نے تفتیشی افسر کو حکم دیا ہوا ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے متعلقہ عدالت میں اس مقدمے کی کارروائی کو تیز کرنے کے ضمن میں اے این ایف کی درخواست مسترد کردی ہے۔ سپریم کورٹ میں اس مقدمے

اس مقدمے کے تفتیشی افسر شکیل چوہدری کا کہنا تھا کہ مخدوم شہاب الدین اور علی موسی گیلانی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ایک سوال پر کہ آیا ارکان پارلیمنٹ کو سپیکر قومی اسمبلی یا سینیٹ کے چیئرمین کی منظوری کے بغیر بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ فوجداری مقدمات یعنی کریمنل کیسز میں قومی اسمبلی کی سپیکر یا سینیٹ کے چیئرمین کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کی سماعت دو جولائی کو ہوگی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here