اہلیت کیس: بنچ پر اعتماد نہیں ہے

Posted by on Jun 15, 2012 | Comments Off on اہلیت کیس: بنچ پر اعتماد نہیں ہے

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیت اور قومی اسمبلی کی سپیکر کی رولنگ سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس پر فوری کارروائی کی گئی تو پوری حکومت ہل کر رہ جائے گی۔

ے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی سپیکر یا الیکشن کمشنر کا رول اُس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی فیصلے میں اہلیت یا نااہلیت کا سوال اُٹھایا گیا ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی سپیکر کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

عمران خان کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے عدالتی فیصلے کا غلط اطلاق کیا ہے اور عدالتی فیصلہ آنے کے بعد یوسف رضا گیلانی غیر قانونی طور پر وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ بھی تو اُن کے پاس کافی دن تھے لیکن اُنہوں نے اس دوران بھی کوئی اپیل دائر نہیں کی۔ عدالت نے وزیر اعظم کے وکیل چوہدری اعتزاز احسن کو جمعہ کے روز اپنے دلائل شروع کرنے کو کہا۔ اعتزاز احسن نے عدالت سے مذید مہلت مانگنے کی استدعا کی جو مسترد کردی گئی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے فیصلہ سُنانے کے بعد اُنہیں بارہا التجا کی کہ اُنہیں سُنا جائے ’لیکن وہ سات جج صاحبان بھاگ گئے تھے‘۔ جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو کہا کہ وہ الفاظ کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ججز نے کسی کا کوئی قرض دینا تھا جو بھاگ گئے‘۔

اٹارنی جنرل کرسی سے اٹھے اور کہا جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے فیصلہ سُنانے کے بعد اُنہیں بارہا التجا کی کہ اُنہیں سُنا جائے ’لیکن وہ سات جج صاحبان بھاگ گئے تھے‘۔ اس پر عدالت میں موجود وکلاء نے اٹارنی جنرل کے خلاف شیم شیم کے نعرے لگائے اور نازیبا زبان استعمال کی۔ وکلاء نے مطالبہ کیا کہ اٹارنی جنرل کے خلف توہینِ عدالت کا مقدمہ چلایا جائے۔”

 

اُنہوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف قومی اسمبلی کی سپیکر کی رولنگ عدالت عظمیٰ کو کمروز کرنے کے مترادف ہے۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ اپنے سیاسی آقاؤں کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی سپیکر کا رویہ تعصبانہ ہے۔

سماعت کے دوران اُس وقت اٹارنی جنرل عرفان قادر کو بنچ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا جب چیف جسٹس نے وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن سے استفسار کیاکہ اُنہوں نے توہین عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیوں نہیں کیا۔

 

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here