اورکزئی: طالبان کے درمیان جھڑپ،بارہ ہلاک

Posted by on Jun 26, 2011 | Comments Off on اورکزئی: طالبان کے درمیان جھڑپ،بارہ ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں مبینہ طور پر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دو کمانڈروں کے درمیان ہونے والے ایک جھڑپ میں بارہ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔
اورکزئی ایجنسی میں ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح صدر مقام غلجو سے تقریبا پچیس کلومیٹر دور جنوب کی جانب وسطی اورکزئی کے علاقے فیصل درہ میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دو کمانڈروں کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی ہے۔
اہلکار کے مطابق جھڑپ کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور آٹھ زخمی بتائے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمانڈروں میں سے کوئی بھی حکومت کا حامی نہیں اور دونوں شدت پسند ہیں۔ ان میں کمانڈر نورجمال المعروف طوفان خان اور حنفی کے نام سے مشہور کمانڈر ندیم مولا شامل ہیں۔
نامہ نگار دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر حنفی گروپ کے جنگجو بتائے جاتے ہیں لیکن ابھی تک تصدیق نہیں ہو پائی کہ حنفی اور طوفان گروپ کے کتنے کتنے جنگجو مارے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں کمانڈروں کا تعلق حکیم اللہ محسود گروپ سے ہے لیکن اورکزئی ایجنسی میں دونوں کمانڈروں کے الگ الگ گروہ ہیں اور ایک کا نام طوفان گروپ ہے اور دوسرا حنفی گروپ سے جانا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی دونوں گروپوں کے درمیان جھڑپیں ہو چکی ہیں اور دونوں کے درمیان کافی عرصے سے مخالفت چلی آ رہی تھی۔
ہلاک ہونے والے تمام کے تمام حنفی گروپ کے بتائے جاتے ہیں۔البتہ حنفی خود محفوظ ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں شامل نہیں ہیںمقامی لوگمقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام کے تمام حنفی گروپ کے بتائے جاتے ہیں۔البتہ حنفی خود محفوظ ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں شامل نہیں ہیں۔
دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ حنفی گروپ کا تحریک طالبان پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ حکومت کا حامی ایک لشکر ہے اور اس کو سکیورٹی فورسز کی مدد بھی حاصل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جھڑپ میں حنفی گروپ کے دس افراد کو ہلاک جبکہ دو کو زندہ گرفتار کیاگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاشیں ان کے قبضے میں ہیں اور آٹھ لاشوں کے سر تن سے جدا کر دیے گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق کمانڈر طوفان کے جنگجووں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سنیچر کی صبح جھڑپ سے پہلے حنفی سے بات ہوئی تھی اور ان کو آگاہ کیاگیا تھا کہ وہ حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں لیکن انہوں نے جواب میں صرف کہا کہ ٹھیک ہے۔
واضح رہے کہ قبائلی علاقوں میں اس وقت مقامی شدت پسندوں گروپوں کے علاوہ پنجابی طالبان اور غیر ملکی جنگجوں کے خلاف اگر ایک طرف مختلف محاذوں پر سکیورٹی فورسز کی غیر اعلانیہ کارروائیاں جاری ہیں۔
تو دوسری طرف شدت پسند گروہوں کے درمیان خود بھی اختلافات موجود ہے۔اس سے پہلے خیبر ایجنسی میں دو شدت پسند تنظمیوں کے درمیان کئی بار جھڑپیں ہوئی ہیں۔جس میں درجنوں شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here