انڈین اداکارہ ماریہ سوسائی راج قتل کیس میں تین سال بعد رہا

Posted by on Jul 04, 2011 | Comments Off on انڈین اداکارہ ماریہ سوسائی راج قتل کیس میں تین سال بعد رہا

کنڑا اداکارہ اور ماڈل ماریہ سوسائی راج جیل سے رہا ہوگئی ہیں، وہ اپنے دوست نیرج گرور کے قتل کے الزام میں جیل میں قید تھیں۔
جمعہ کو عدالت نے انہیں قتل کے شواہد مٹانے کے جرم میں تین برس قید کی سزا سنائی تھی۔
لیکن چونکہ وہ تین برس سے جیل میں تھیں اس لیے سزا پوری ہونے کے سبب سنیچر کے روز بائیکلہ جیل سے رہا ہو گئی ہیں۔
اس قتل معاملے میں ماریہ کے منگیتر ایمیل جیروم کو عدالت نے غیر اردتا قتل کے جرم میں دس برس قید کی سزا سنائی ہے۔
پولیس نے دونوں کے خلاف قتل کی فرد جرم عائد کی تھی لیکن تین برس کی سماعت کے بعد عدالت نے ماریہ سوسائی راج کو تین برس اور ایمیل جیروم کو دس برس قید کی سزا سنائی ہے۔

بھارت کے بیشتر اخبارات اور ٹی وی چیلنز پر یہ خبر نشر کی جا رہی ہے اور ماہرین تبصروں میں یہ سوال اٹھار رہے ہیں کہ آخر عدالت اپنے اس فیصلہ سے معاشرے کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔
نوجوان نیرج گرور کا تعلق شہر کانپور سے تھا جو ممبئی میں ٹی وی کے پروڈیوسر تھے۔ ماریہ اور نیرج میں دوستی تھی۔ لیکن ماریہ کی منگنی بھارتی بحریہ کے سابق اہلکار ایمیل جیروم سے ہوچکی تھی۔
ایک دن صبح جیروم ماریہ کے گھر پہنچے اور نیرج گروور کو دیکھ کو ان پر چاقو سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق قتل کے بعد گروور کی لاش گھر میں پڑی رہی۔
ماریہ نے عدالت کے سامنے اپنے اقبالیہ بیان میں تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے جیروم کے ساتھ مل کر لاش کے کئی سو ٹکڑے کیے پھر وہ بازار گئیں اور لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے دو بیگ خرید کر لائیں۔
لاش کے ان ٹکڑوں کو تھیلے میں بھر کو دونوں تھانے کے علاقے کے ایک جنگل میں لیگئے اور اسے جلا دیا۔ ماریہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے جیروم کے ڈر سے شواہد مٹانے میں ان کی مدد کی تھی لیکن انہوں نے قتل نہیں کیا تھا۔
جج نے ان کے اقبالیہ بیان کو تسلیم کرلیا۔ اسی طرح ایمیل جیروم کو بھی قتل کا مجرم نہیں بلکہ غیر ارادتا قتل کی سزا سنائی ہے۔
جج کا کہنا تھا  ظاہر ہے کوئی بھی منگیتر اپنی ہونے والی شریک حیات کو دوسرے کے ساتھ ہوش کھو بیٹھیگا اور بے قابو ہوجائیگا۔
جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیرج گروور اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جس طرح اس کا قتل کیا گیا پھر لاش کے تین سو ٹکڑے کییگئے اور دونوں نے ملک کر جنگل میں جلا دیا اس کیس کو غیر معمولی جرم کے زمرے میں رکھنا چاہیے تھا۔
بہر حال اب یہ کیس ہائی کورٹ میں جائے گا اور فریقین اس کو چیلنچ کرنے کے متعلق سوچ رہے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here