انتخابی اخراجات کی نگرانی کا حکم

Posted by on Jun 08, 2012 | Comments Off on انتخابی اخراجات کی نگرانی کا حکم

انتخابی اخراجات سے متعلق درخواستیں ووکرز پارٹی کی طرف سے عابد حسن منٹو اور حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ قاف کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور دیگر افراد کی طرف سے دائر کی گئی تھیں۔

ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ انتخابات کے دوران اُٹھنے والے اخراجات سے متعلق قانون موجودہے لہذا ان قوانین پر عمل درآمد کروایا جائے۔

فیصلے میں الیکشن کمیشن کو انتخابی اُمیدوار سے پولنگ کے روز ووٹروں کو پولنگ سٹیشن پر لانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے اخراجات سے متعلق بھی تفصیلات طلب کرنے کو کہا گیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعہ کے روز ان درخواستوں سے متعلق فیصلہ سُنایا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل سترہ کے تحت ہر شخص کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کا حق ہے اور الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی شخص کو بھی اُس کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ گھر گھر جاکر ووٹروں کے اندارج اور اُن کی تصدیق کے عمل کو یقینی بنائے اور اس ضمن میں فوج اور ایف سی کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

فیصلے میں سپریم کورٹ نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے کبھی بھی انتخابات میں بدعنوانی کو روکنے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں پولنگ سٹاف میں صوبائی حکومتوں کے اہلکاروں کو تعینات کرنے کی بجائے وفاقی اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔

فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے کہ پولنگ سٹیشنز ووٹروں کے گھروں سے دو کلومیٹر سے زیادہ دوری پر نہ ہوں۔

سپریم کورٹ نے انتخابی اخراجات سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ سُناتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کی انتخابی سرگرمیوں اور اُس پر اُٹھنے والے اخراجات کی پر نظر رکھے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here