امریکی اہلکاروں کی قذافی کے نمائندوں سے ملاقات

Posted by on Jul 19, 2011 | Comments Off on امریکی اہلکاروں کی قذافی کے نمائندوں سے ملاقات

امریکی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اس کے اہلکاروں نے کرنل قذافی کی حکومت کے نمائندوں سے بلمشافہ ملاقات کی ہے جس میں کرنل قذافی کو اقتدار سے علیحدہ ہونے کا واضح اور غیر مبہم پیغام دیاگیا ہے۔
امریکی حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ ملاقات کہاں ہوئی ہے۔ البتہ لیبیا کی حکومت کے ترجمان نے ترایپولی میں صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات سینچر کے روز تیونس میں ہوئی ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد لیبیا کی حکومت پر واضح کرنا تھا کہ کرنل قذافی کے اقتدار کا وقت ختم ہو چکا ہے اور انہیں فورا اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔
امریکی حکومت کا موقف ہے کہ اس ملاقات کا مقصد کرنل قذافی کو پیغام پہنچانا تھا اور انہیں مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔
لیبیا کی حکومت کے ترجمان موسی ابراہیم نے ملاقات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیبیا ہر امن منصوبے پر بات کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اسے پیشگی شرائط منظور نہیں ہیں۔
امریکہ نے چند روز پہلے ہی لیبیا کے باغیوں کو لیبیا کا جائز حکمران تسلیم کیا ہے۔
روس نے امریکہ پر لیبیا کے باغیوں کو جائز حکمران تسلیم کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خانہ جنگی میں ایک فریق کا مددگار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ روس نے لیبیا کے باغیوں کو جائز حکمران تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
ادھر لیبیا کے باغیوں نیدعوی کیا ہے کہ انہوں نے مشرقی شہر بریقہ کے اکثر حصوں پر قبضہ جما لیا ہے اور کرنل قذافی کی حامی افواج پسپا ہو رہی ہیں۔
لیبیا کی حکومت نے باغیوں کے دعوں کی تردید کی ہے۔ لیبیا کی حکومت نے کہا ہے کہ پورا شہر حکومتی کنٹرول میں ہے اور پانچ سو باغیوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
لیبیا حکومت کے ترجمان موسی ابراہیم نے کہا کہ باغی نوجوانوں کو موت کے منع دھکیل رہے ہیں۔ بریقہ دارالحکومت تریپولی سے سات سو پچاس کلو میٹر دوری پر ہے اور اسے لیبیا کے تیل کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here