القاعدہ سے تعلق نہیں ہے۔ حرکت المجاہدین

Posted by on Jun 25, 2011 | Comments Off on القاعدہ سے تعلق نہیں ہے۔ حرکت المجاہدین

پاکستان کی عسکری تنظیم حرکت المجاہدین نے کہا ہے کہ ان کا القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے کبھی بھی کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔
حرکت المجاہدین کے ترجمان نے بی بی سی ارود کے ذوالفقار علی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ ایک الگ تنظیم ہے، اس کا اپنا نظم و ضبط ہے اور ان کی اپنی سوچ ہے۔ ہمارا اسامہ کا کے ساتھ کبھی بھی کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ بھی ان کا کوئی رابط نہیں رہا ہے۔
حرکت المجاہدین کی طرف سے یہ بیان امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں امریکی حکام کے حوالے سے چھپنے والی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور حرکت المجاہدین کے درمیان رابط رہا ہے۔
اخبار کے مطابق اسامہ بن لادن کے پیغام رساں کے موبائل فون میں حرکت المجاہدین کے کمانڈروں کے فون نمبر موجود تھے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اسامہ بن لادن نے حرکت المجاہدین کو پاکستان میں مدد فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا۔
ایک سینئیر امریکی اہلکار نے کہا کہ حرکت کے کمانڈروں نے پاکستانی انٹلیجینس افسر کو فون کیا تھا۔ اخبار کے مطابق ایک نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ان کی ملاقات ہوئی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ حرکت کمانڈر اور پاکستانی انٹلیجنس کے افسر کے درمیان فون پر رابطہ بن لادن کے متعلق ہی کیا گیا ہو یا انہیں تحفظ دینے کے لیے ہو ایسا ہوا ہے۔
لیکن انھوں نے حرکت المجاہدین کے ان کمانڈروں کے نام ظاہر نہیں کیے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند وزیرستان میں تھے۔
حالیہ برسوں میں حرکت المجاہدین کے کمانڈروں کا اسامہ بن لادن کے ساتھ کوئی رابط رہا ہے یا نہیں اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔
البتہ سن انیس سن اٹھانوے میں امریکہ نے تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کے رد عمل میں افغانستان میں خوست کے علاقے میں اسامہ بن لادن کے مبینہ خفیہ ٹھکانوں پر کروز میزائلوں سے حملے کیے۔
ان حملوں میں اسامہ بن لادن تو بچ گیے لیکن حرکت المجاہدین کے کے اسوقت کے سربراہ فضل الرحمان خلیل نے کہا تھا کہ ان کے نو شدت پسند ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے۔ یہ وہ وقت تھا جب افغانستان میں طالبان حکمران تھے۔
حرکت المجاہدین افغانستان میں سابق سویت یونین کے خلاف جنگ میں جلال الدین حقانی کے یونس خالص دھڑے کے ساتھ لڑتے رہے۔
افغان جنگ کے خاتمے کے بعد یہ حرکت المجاہدین نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا رخ کیا۔
جولائی سن پچانونے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چھ مغربی سیاحوں کے اغوا کے بعد حرکت المجاہدین ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بنی۔ ان سیاحوں کے اغوا کی ذمہ داری ایک غیر معروف تنظیم الفاران نے قبول کی تھی۔
اغوا کاروں نے کچھ روز بعد ایک سیاح کو قتل کیا اور ایک فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جبکہ چار سیاحوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں بھی دسمبر سن پچانوے میں ہی قتل کر دیا گیا تھا۔ الفاران کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا کہ کہ حرکت الانصار کا ہی دوسرا نام ہے۔
سن انیس سو پچانونے میں ہی امریکہ نے چھ مغربی سیاحوں کے اغوا کے بعد حرکت الانصار کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جس کے بعد حرکت الانصار نے اپنا نام تبدیل کرکے حرکت المجاہدین رکھا۔
حرکت الانصار سن انیس سو ترانوے میں اسوقت وجود میں آئی تھی جب دو دیو بندی مکتبہ فکر کے دو تنظیموں حرکت الجہاد اسلامی اور حرکت المجاہدین ایک دوسرے میں ضم ہوگئیں۔
ان دونو تنظیموں کے بارے میں عمومی تاثر رہا کہ ان کا تعلق پاکستان کے جمعیت علما اسلام کے دونوں دھڑوں سے رہا ہے۔
لیکن کچھ سالوں بعد حرکت المجاہدین اور حرکت جہاد اسلامی دو حصوں میں بٹ گئی۔
دو ہزار ایک میں امریکہ نے حرکت المجاہدین کو بھی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا۔
اس کے بعد سن دو ہزار دو میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی حکومت نے پاکستانی شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی اور حرکت المجاہدین سمیت کئی تنظیموں پر پابندی عائد کی۔
اس پابندی کے بعد حرکت المجاہدین جمعیت الانصار کے نام سے نمودار ہوئی لیکن دو ہزار تین میں حکومت پاکستان نے اس پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔
لیکن حرکت المجاہدین کو سن دو ہزار میں سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب ہندوستان کے جیل سے رہائی پانے والے اس کے رہنما مولانا مسعود اظہر نے اپنی تنظیم جیش محمد قائم کی۔
ہندوستان نے دسمبر سن انیس سو ننانوے میں تین شدت پسند رہنماں مولانا مسعود اظہر، مشتاق زرگر اور احمد عمر سعید شیخ کو اغوا ہوئے ہندوستان کے ائیر لائن کے جہاز کے مسافروں کے بدلے میں رہا کیا تھا۔
اس بھارتی طیارے کو اغوا کرنے کا الزام بھی حرکت المجاہدین پر عائد کیا گیا تھا۔ حرکت المجاہدین نے بھی اس کی کبھی تردید نہیں کی تھی۔
جیش محمد کے قیام کے بعد حرکت المجاہدین کے بہت سارے شدت پسند جیش محمد میں شامل ہوگیے اور انھوں نے حرکت المجاہدین کے کئی دفتروں پر قبضہ بھی کیا۔
سن دو ہزار میں پرویز مشرف کی طرف سے پابندی کے نتیجے میں حرکت المجاہدین نے برسوں تک اپنی سرگرمیوں کو بظاہر محدود رکھا اور زیر زمین چلی گئی۔
لیکن سن دو ہزار سات میں لال مسجد پر قابض شدت پسندوں کے ساتھ ثالثی کے لیے حرکت المجاہدین کے رہنما فضل الرحمان خلیل کو بلایا تھا۔
گزشتہ سال بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستان مخالف عوامی احتجاجی تحریک میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندوں کی اجتماعات میں فضل الرحمان خلیل اور مولانا فاروق کشمیری نے بھی خطاب کیا۔
سن دو ہزار ایک امریکہ کی طرف سے حرکت المجاہدین پر پابندی کے بعد سن دو ہزار دو میں مولانا فضل الرحمان خلیل حرکت المجاہدین کے سیکریڑی جنرل بنیاس سے پہلے وہ تنظیم کے سربراہ تھے۔
ان کی جگہ مولانا فاروق کشمیری تنظیم کے سربراہ بن گیے اور اب تک وہی اس تنظیم کی سربراہی کررہے ہیں۔
گذشتہ کچھ سالوں سے مولانا فضل الرحمان خلیل تنظیم میں کسی عہدے پر تو نہیں ہے لیکن با اثر رہنما اب بھی ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here