افغانستان کے مسئلے کا حل مصالحت کے ذریعے ممکن ہے نہ کہ جنگ کے ذریعے

Posted by on Jun 29, 2011 | Comments Off on افغانستان کے مسئلے کا حل مصالحت کے ذریعے ممکن ہے نہ کہ جنگ کے ذریعے

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کی حمایت کریں گے لیکن ان مذاکرات میں براہِ راست حصہ نہیں لیں گے۔
یہ بات افغانستان میں پاکستان کے سفیر محمد صادق نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔
پاکستانی سفیر نے کہا افغان حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو سپورٹ کریں گے لیکن مذاکرات کے وقت ٹیبل پر نہیں بیٹھے گے۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منگل کو پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے اس اجلاس میں پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر، آئی ایس آئی کے جنرل پٹودی اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کے علاوہ وزارتِ خارجہ کے حکام بھی شامل تھے۔
پاکستان کے سفیر نے کہا کہ یہ بات پچھلے اجلاس ہی میں طے پا گئی تھی کہ اس اجلاس میں فوجی حکام بھی شرکت کریں گے۔
طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ان مذاکرات کے لیے مدد فراہم کرے گا۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات افغانستان کی ہائی پیس کونسل کرے گی جس کے سربراہ برہان الدین ربانی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سنہ دو ہزار دو سے یہ مقف ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا حل مصالحت کے ذریعے ممکن ہے نہ کہ جنگ کے ذریعے۔ ہماری پوزیشن یہ ہے کہ سب سے بات کرنی پڑے گی۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات افغانستان کی ہائی پیس کونسل کرے گی جس کے سربراہ برہان الدین ربانی ہیں۔تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستانی طالبان سے بھی مذاکرات کیے جائیں گے تو ان کا کہنا تھا میں پاکستانی طالبان کی بات نہیں کر رہا۔ پاکستانی طالبان کے لیے ہماری داخلی پالیسی ہے۔
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی سے گریز کی جائے۔
کابل میں امریکی سفارت کار کارل ایکنبری نے بی بی سی ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں طالبان کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ صرف ان طالبان کو نشانہ بنا رہا ہے جس سے اسے براہراست خطرہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کا اس سلسلے میں ریکارڈ بہت خراب ہے وہ ان طالبان کے پیچھے نہیں جاتے جو پاکستان کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔
انھوں نے کہا یہ اپنے صحن میں سانپ پالنے کے مترادف ہے اور کچھ سانپ آپ کے بچوں کو کاٹتے ہیں اور کچھ کو ہمسائے کے بچوں کو کاٹنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
پیر کو افغان صدر حامد کرزئی نے گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان کی جانب سے 470 راکٹ داغنے کا الزام لگایا۔ اس الزام کی پاکستانی فوج نے تردید کی۔
ہمیں اپنے ملکی حالات کی ذمہ داری خود تسلیم کرنی چاہیے۔ یہ مسئلہ ختم نہیں ہو گا اگر ہم ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھاتے رہیں۔ ہم نے الزام تراشیاں بہت عرصے کر لی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دونوں ممالک فیصلہ کریں۔
ہمیں اپنے ملکی حالات کی ذمہ داری خود تسلیم کرنی چاہیے۔ یہ مسئلہ ختم نہیں ہو گا اگر ہم ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھاتے رہیں۔ ہم نے الزام تراشیاں بہت عرصے کر لی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دونوں ممالک فیصلہ کریں۔سلمان بشیراسی سلسلے میں پیر کو تینوں ملکوں کے اعلی فوجی عہدیداروں کا ایک اجلاس ہوا تھا جس میں افغانستان کی سکیورٹی کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔
اجلاس میں شامل ہونے والے وفود کی سربراہی پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، افغان فوج کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی اور افغانستان میں عالمی سکیورٹی فورسز کے کمانڈر ڈیوڈ ایچ پیٹریئس نے کی۔
اس اجلاس میں پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کے حالات کو بہتر بنانے کے اقدامات بھی زیرِ غور آئے۔
سرحدی سکیورٹی سے متعلق تعاون کو بہتر بنانے اور کسی بھی طرح کی غلط فہمی سے بچنے کے لیے تعاون میں اضافے کے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔ اس کے علاوہ علاقے میں امن واستحکام کی بحالی کے عہد کا اعادہ کیا گیا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here