اصغر بہاولپوری کا تالا

Posted by on Jun 19, 2012 | Comments Off on اصغر بہاولپوری کا تالا

 

قفل ویسے تو اشیاء اور جائیداد کی حفاظت کے لیے لگایا جاتا ہے لیکن بہاولپور میں ایک ایسا تالا ملا جس حفاظت کے لیے خود اسے ہی زنجیروں میں جکڑا گیا ہے۔

یہ تالا بہاولپور کی ایک شخصیت اصغر بہاولپوری کا ہے اور انہوں نے اسے بنانے کے لیے ایک سال تک سیالکوٹ میں قیام کیا اورکئی لاکھ روپے خرچ کر ڈالے۔

اصغر بہاولپوری کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا تالا ہے۔ان کےبقول گیننز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لاہور کے رہائشی جاوید کاتالا چھبیس انچ اونچا اور چھیانوے کلو وزنی تھا جبکہ ان کا تالا چونتیس انچ اونچا اور ایک سو چالیس کلو کا ہے۔

اصغر بہاولپوری تین چار سال تک ایک نجی ٹی وی کے رپورٹر بھی رہے ہیں۔ان کے پاس اگرچہ او وی وین تو نہیں تھی لیکن انہوں نے اپنی ہائی روف منی وین کو ایمبولینس کی شکل دے رکھی تھی اورجہاں کوئی واقعہ ہوتا وہ ہوٹر چلاتے کوریج کے لیے پہنچ جاتے۔

اصغر بہاولپوری اس تالے کا اندراج گینز بک آف ورلڈریکارڈ میں کرانا چاہتے ہیں لیکن اصغر بہاولپوری کی پہچان محض یہ تالا ہی نہیں ہے۔ وہ کم از کم اٹھارہ شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔

ان سے بہاولپور میں ملاقات اس وجہ سے ہوئی کہ ہمیں صحافتی خدمات انجام دینے کے لیے ایک مقامی صحافی کا ساتھ درکار تھا۔

وہ کاؤ بوائے ہیٹ پہنے ہوئے ریستوران میں داخل ہوئے تو ایک لمحے کو لگا کہ ویسٹرن فلموں کی طرح وہ ابھی لمبی نالی والا ریوالور نکال کر ٹھائیں ٹھائیں شروع کردیں گے لیکن انہوں نے آتے ہمیں گلے لگایا۔

جیسے جیسے ان سے ملاقات کا دورانیہ بڑھتا گیا ویسے ہی ان کی شخصیت کے پرت کھلتے گئے۔

ان کے ذریعے بہاولپور کی مختلف اہم شخصیات سے ملاقات ممکن ہوئی البتہ قیمتی نوادرات کے مالک اوچ شریف کے ایک گدی نشین سے ملاقات ممکن نہیں ہو سکی۔

اس کا اصغر بہاولپوری نے اپنی طرف سے انوکھا حل نکالا جو صحافت کی دنیا میں تو ایک جرم ہے لیکن اس سے اصغر بہاولپوری کی ایک نئی شکل سامنے آئی۔

اصغر بہاولپوری نے پیشکش کی کہ اگرصرف ریڈیو کے لیے پروگرام بنانا ہے تو وہ اس گدی نشین کی آواز کی سو فی صد ایسی نقل اتاریں گے کہ وہ سجادہ نشین خود بھی نہیں پہچان پائے گا۔

ظاہر ہے کہ بی بی سی پر تو اس قسم کی جعلسازی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن یہ ضرور معلوم ہوا کہ بہاولپوری صاحب تو ایک بہت بڑے صداکار بھی ہیں۔

میری فرمائش پر انہوں نے نہ صرف اس گدی نشین کی بلکہ سینیئر کمپیئر طارق عزیز کی آواز کی نقل اتاری۔ سن کر بہت محظوظ ہوا۔

معلوم ہوا کہ وہ سٹیج اداکاری سے لیکر صداکاری تک شوبز کی دنیا کا تقریباً ہر کام انہوں نے کیا ہے۔

وہ تین سوسرائیکی گانے فلم بند کر چکے ہیں۔ تیس کے قریب اردو، پنجابی اور سرائیکی فلموں میں اداکاری کر چکے ہیں جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن کے ساڑھے تین سو ڈرامے کرچکے ہیں۔

چولستان میں سب سے بڑی بیماری سانپ سے ڈسے جانے کی ہے۔اس سٹوری میں جان ڈالنے کے لیے انہوں چولستان کے ایک جوگی سے ڈیڑھ سو روپے فی سانپ خرید کر چولستان میں ہی واپس چھوڑ دیئے اور ان کی فلم بنا لی۔

اصغر بہاولپوری کیمرہ مین ہونے کے علاوہ رائٹر اور ڈائریکٹر ہیں اور ایک این جی او کے سربراہ بھی ہیں جس نے چولستان میں فری کلینک کھول رکھا ہے۔

ان کے بقول انہوں نے چولستان سے دنیا کے سب سے لمبے آدمی اور سب سے لمبی خاتون کو بھی ڈھونڈ نکالا تھا۔ ان دونوں کے نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہیں۔

اصغر بہاولپوری جادو کے کرتب دکھانے کے ماہر بھی ہیں لیکن اس ہرفن مولا شخص کو سب سے زیادہ مزہ پتلی تماشا کرنے میں آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پتلی تماشا میں بچوں کو اصلاحی پیغامات دیتا ہوں اور پھر انہیں ہنساتا ہوں تو بچوں کے قہقہے سن کر مجھے بہت سکون ملتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایک بار وہ چند سیکنڈ کی فلم بندی کے لیے صبح سے شام تک چولستان کی کڑکتی دھوپ میں پانی کے ایک جوہڑ کے کنارے کیمرہ لگائے بیٹھے رہے تھے، اور سورج ڈھلنے سے پہلے وہ اونٹوں کے چرواہے اور ایک کتے کی اس جوہڑ سے ایک ساتھ پانی پینے کی عکس بندی کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here