اسلام آباد پولیس نے وفاقی دارالحکومت میں دہشت گردی کی واردات کو ناکام بناتے ہوئے چار شدت پسندوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے دو خودکش جیکٹیں ، ہینڈ گرنیڈ،آتش گیر مادہ اور اسلحہ برآمد کرلیا ہے۔

Posted by on Jul 30, 2011 | 2 Comments

اسلام آباد پولیس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے وفاقی دارالحکومت میں دہشت گردی کی واردات کو ناکام بناتے ہوئے چار شدت پسندوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے دو خودکش جیکٹیں ، ہینڈ گرنیڈ،آتش گیر مادہ اور اسلحہ برآمد کرلیا ہے۔
ایس پی صدر سرکل چوہدری لیاقت علی نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ پولیس کو ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں کام کرنے والی شدت پسند تنظیم نے متعدد افراد کو شدت پسندی کی کارروائی کے لیے اسلام آباد بھیجا ہے۔
اس اطلاع کے بعد پولیس نے اسلام آباد کے گردونواح میں واقع کچی آبادیوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی تھی اور جمعہ کی شب پولیس کو ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون کے قریب واقع گاں میرا اکو میں کچھ افراد مشکوک سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
اس اطلاع کے بعد پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا اور ایک گھر پر چھاپہ مار کر چار شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا جبکہ ایک شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ پولیس نے اس مکان کے مالک کو بھی حراست میں لے لیا ہے جس میں شدت پسند موجود تھے۔
اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنیامین نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے افراد کی عمریں بیس سے پچیس سال کے درمیان ہیں اور ان کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاوہ صوبہ خیبر پختون خوا کے دیگر علاقوں سے ہے۔
ملزمان کے قبضے سے مختلف آلات بھی ملے ہیں جن کی مدد سے وہ پولیس اہلکاروں کے پاس موجود واکی ٹاکی اور پولیس کنٹرول کی فریکوئنسی سے وی آئی پی شخصیات کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات حاصل کر لیتے تھے۔اسلام آباد پولیسانہوں نے کہا کہ ملزمان کے قبضے سے دو خودکش جیکٹوں کے علاوہ ہینڈگرنیڈ اور تین پستول بھی ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خودکش جیکٹوں کو ناکارہ بنادیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے مختلف آلات بھی ملے ہیں جن کی مدد سے وہ پولیس اہلکاروں کے پاس موجود واکی ٹاکی اور پولیس کنٹرول کی فریکوئنسی سے وی آئی پی شخصیات کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات حاصل کر لیتے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند اہم شخصیات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے جس میں حکومت اور بیوروکریسی میں شامل شخصیات شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ ملزمان کا تعلق دو کالعدم تنظیموں تحریک طالبان پاکستان اور غازی فورس سے ہے اور وہ تین ہفتے قبل اسلام آباد آئے تھا جہاں پر دو افراد نے انہیں خودکش جیکٹیں اور دستی بم پہنچائے۔
ملزمان کا کہنا تھا کہ ان کے ایک ساتھی کو سینیچر کی علی الصبح راولپنڈی پہنچانا تھا جہاں پر اس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر خودکش حملہ کرنا تھا۔
گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جہاں پر پولیس اہلکاروں کے علاہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور ایف آئی اے کے سپیشل انوسٹیگیشن گروپ کے اہلکار ان افراد سے تفتیش کر رہے ہیں

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here