اسامہ کی ہلاکت تحقیقاتی کمیشن: بے داغ سربراہ کی تلاش

Posted by on May 31, 2011 | Comments Off on اسامہ کی ہلاکت تحقیقاتی کمیشن: بے داغ سربراہ کی تلاش

پارلیمنٹ کا اجلاس تین جون کو طلب کیا گیا ہے

پاکستان کی وفاقی وزیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعے کے بارے میں مجوزہ آزاد تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ کے لیے ایک ایسے شخص کی تلاش ہے جس کا ماضی بے داغ اور وہ عالمی شہرت کے حامل ہوں۔

انھوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا ہیجب سنیچر کو حکومت مخالف سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نیحکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے لیے پارلیمان کی تجویز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔

اتوار کو وفاقی وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ایک اخباری کانفرس میں مجوزہ آزاد تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے بارے میں میاں نواز شریف کے تحفظات پر کہا کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایوان میں یہ وعدہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی قرار داد کا احترام کیا جائے گا اور آزاد کمیشن کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہقومی اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی طلب کیا جا چکا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس اجلاس میں ہم اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گے اور اس کمیشن کی ساخت اور ہیت کو طے کر لیں گے۔

آزاد کمیشن کی سربراہی کے لیے آپ کو ایک ایسا شخص چاہیے جو عالمی شہرت کا حامل ہو، متفقہ طور پر قابل قبول ہو، جس کا ماضی بے داغ ہو اور جس کی پاکستان کی عوام، عالمی برادری اور سیاسی جماعتیں قدر کریں اور اس نام پر سب کا متفق ہونا ضروری ہے

واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا اجلاس تین جون کو طلب کیا گیا ہے۔

تقریبا دو ہفتے پہلے پارلیمان کے بند کمرہ ہونے والے مشترکہ اجلاس میں متفقہ قرار داد کے ذریعے حکومت کو تجویز دی گئی تھی کہ ایبٹ آباد میں امریکی کی یکطرفہ کارروائی کے نتیجے میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے۔

اس قرارداد کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی نیگزشتہ ہفتے وزیر اعظم گیلانی کو ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے کمیشن کی تشکیل کے لیے تین سابق ججز سمیت سات افراد کے نام تجویز کیے تھے۔

قائد حزب اختلاف کی طرف سے بھیجے گئے ناموں پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ان ناموں پر اعتراض تو نہیں ہو سکتا لیکن چونکہ ان کی اتحادی حکومت ہے اور پارلیمنٹ بھی معلق ہے لہذا پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کا ان ناموں پر متفق ہونا ضروری ہے۔

پارلیمنٹ میں میاں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ ن کے علاوہ کئی اور سیاسی جماعتیں بھی ہیں اور ان تمام کو اعتماد میں لینا، ان سے مشاورت کرنا اور ان کا کمیشن کے ناموں پر متفق ہونا ضروری ہے

وفاقی وزیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعے کے بارے میں مجوزہ آزاد تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ کے لیے ایک ایسے شخص کی تلاش ہے جس کا ماضی بے داغ اور وہ عالمی شہرت کے حامل ہوں۔

انھوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا ہیجب سنیچر کو حکومت مخالف سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نیحکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کے لیے پارلیمان کی تجویز کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔

اتوار کو وفاقی وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ایک اخباری کانفرس میں مجوزہ آزاد تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے بارے میں میاں نواز شریف کے تحفظات پر کہا کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایوان میں یہ وعدہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کی قرار داد کا احترام کیا جائے گا اور آزاد کمیشن کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اگر آپ دہشت گردی کے معاملے پر حکومت، سکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں پر تنقید کرتے ہیں تو ضرور کریں یہ آپ کا حق ہے آپ پوچھیں، لیکن ہماری گزارش ہے کہ کم از کم اسامہ بن لادن کی بھی مذمت تو کریں، اس نے پاکستان اور اس خطے کے لیے جو دہشت گردی شروع کی تھی، وہ جیتا تھا تو پاکستان کے لیے عذاب تھا اور وہ مرا ہے تو پاکستان کے لیے عذاب ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مذمت تو کریں۔یہ آپ کے ہی لگائے ہوئے پودے ہیں جنھوں نے آج پھل دیے ہیں اور یہ کڑوے پھل ساری قوم کو کھانے پڑ رہے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here