اسامہ کی تلاش کے لئے سی آئی اے نے ایبٹ آباد میں حفاظتی ٹیکوں کی ایک جعلی مہم بھی چلائی تھی۔

Posted by on Jul 12, 2011 | Comments Off on اسامہ کی تلاش کے لئے سی آئی اے نے ایبٹ آباد میں حفاظتی ٹیکوں کی ایک جعلی مہم بھی چلائی تھی۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اہلکاروں کو حفاظتی ٹیکوں کی مہم کا خیال اس مرحلے پر آیا جب وہ اسامہ بن لادن کے پیغام رساں ابو احمد الکویتی کا پیچھا کرتے کرتے ایبٹ آباد کے اس عمارت تک پہنچ چکے تھے
برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کے خاندان کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ایبٹ آباد میں حفاظتی ٹیکوں کی ایک جعلی مہم چلائی تھی۔
رپورٹ میں پاکستانی اور امریکی اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے اس مقصد کے لیے ایک سینیئر پاکستانی ڈاکٹر کی خدمات حاصل کی تھیں جنہوں نے اس مہم کو اصلی جینوئن ثابت کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں ایبٹ آباد کے نسبتا غریب علاقوں میں لوگوں کو ہیپاٹائٹس بی سے بچا کے حفاظتی ٹیکے لگائے۔
اس مہم کے تحت پہلے مرحلے میں ایبٹ آباد کے مضافاتی علاقے نواشہر میں غریب لوگوں کو ہیپاٹائٹس سے بچا کے حفاظتی ٹیکے لگائے گئے۔ عام طور پر ہیپاٹائٹس سے بچا کے ٹیکے ایک ایک مہینے کے وقفے کے بعد تین مرحلوں میں لگائے جاتے ہیں لیکن حفاظتی ٹیکوں کی اس جعلی مہم کے تحت اپریل میں نوا شہر کے رہائشیوں کو ٹیکوں کے دوسرے خوراک دینے کے بجائے ٹیم بلال ٹان میں گھس آئی جہاں پر اسامہ بن لادن کا کمپانڈ واقع ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات پہلے سے ہی کشیدہ تھے لیکن دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی کے بعد سے اس تنا میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اہلکاروں کو حفاظتی ٹیکوں کی مہم کا خیال اس مرحلے پر آیا جب وہ اسامہ بن لادن کے پیغام رساں ابو احمد الکویتی کا پیچھا کرتے کرتے ایبٹ آباد کے اس عمارت تک پہنچ چکے تھے جو بعد میں القاعدہ رہنما کی پناہ گاہ ثابت ہوئی۔
سی آئی کے اہلکار سیٹلائیٹ اور دیگر ذرائع سے اس عمارت کی نگرانی کر رہے تھے لیکن وہ ایک دوسری ملک میں پرخطر حتمی کارروائی سے پہلے اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ اسامہ بن لادن واقعی وہاں موجود ہیں۔
اس مقصد کے لیے انہیں اس عمارت میں موجود اسامہ بن لادن کے کسی بچے کے ڈی این اے کی ضرورت تھی تاکہ اسے ان کی بہن کے نمونے سے میچ کیا جا سکے جن کا سن دو ہزار دس میں بوسٹن میں انتقال ہو گیا تھا۔ اس طرح اس امر کی حتمی تصدیق ہو سکتی تھی کہ اسامہ کا خاندان وہاں موجود ہے۔
اس مہم کو چلانے کے لیے سی آئی اے کے ایجنٹوں نے ڈاکٹر شکیل آفریدی سے رابطہ کیا جو خیبر ایجنسی میں صحت کے شعبے کے انچارج تھے۔
ڈاکٹر شکیل آفریدی مارچ میں یہ کہتے ہوئے ایبٹ آباد گئے کہ انہوں نے مفت ہیپاٹائٹس بی کے خفاظتی ٹیکے لگانے کے لیے فنڈ حاصل کیے ہیں۔
انہوں نے ایبٹ آباد میں صوبائی محکمہ صحت کے حکام سے بالا بالا لوکل گورنمنٹ کے تحت کام کرنے والے صحت کے اہلکاروں کو بھاری رقوم دیں اور یہ بتائے بغیر اس مہم پر لگا دیا اس کے اصل مقاصد کیا ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات پہلے سے ہی کشیدہ تھے لیکن دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی کے بعد سے اس تنا میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ہیلتھ وزیٹرز ہی ان چند افراد میں شامل تھے جنیں اس وقت تک بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے بہانے اسامہ بن لادن کے کمپانڈ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق بختو نامی ایک نرس اسامہ بن لادن کے گھر کے اندر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی اور اس نے اندر جاکر گھر کے مکینوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے۔
رپورٹ میں کئی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی خود عمارت کے باہر موجود رہے لیکن انہوں نے بختو سے کہا کہ وہ الیکٹرانک آلے سے آراستہ ایک دستی بیگ اندر چھوڑ آئیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کہ دستی بیگ میں کیا نصب تھا اور آیا وہ اسے گھر کے اندر چھوڑنے میں کامیاب ہوئیں یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا اس مہم کے ذریعے سی آئی اے اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوئی یا نہیں، اگرچہ ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن کامیاب نہیں ہو سکا۔
پاکستانی انٹیلیجنس اداروں کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی کارروائیوں کے بارے میں دو مئی کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پتا چلا۔گارڈین کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے حفاظتی ٹیکوں کی جعلی مہم پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here