آئی ایم ایف کے سابق سربراہ ڈومینک سٹراس کان کا سیاسی مستقبل روشن

Posted by on Jul 04, 2011 | Comments Off on آئی ایم ایف کے سابق سربراہ ڈومینک سٹراس کان کا سیاسی مستقبل روشن

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے سابق سربراہ ڈومینک سٹراس کان کی نیویارک کے ایک ہوٹل ملازمہ سے جنسی زیادتی کے مقدمے میں نظر بندی ختم ہونے کے بعد ان کے اتحادیوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ فرانس کے سیاسی منظر پر دوبارہ ابھر سکتے ہیں۔
نیویارک کے ایک ہوٹل میں چودہ مئی کو ایک ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے الزامات میں گرفتار ہونے سے قبل ڈومینک سٹراس کان کا نام مستقل میں فرانس کے صدارتی امیدوار کے طور پر لیا جا رہا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ہوٹل کی ملازمہ کی ساکھ کے بارے میں شبہات سامنے آنے کے بعد ڈومینک سٹراس کان کے خلاف مقدمہ دم توڑنے والا ہے۔
گزشتہ روز کو سٹراس کان کے مقدمے میں جج نے اپنی ذمہ داری پر انھیں رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیئے تھے۔
سٹراس کان اب امریکہ کے اندر سفر کرنے کے لیے آزاد ہیں لیکن وہ ابھی امریکہ سے باہر نہیں جا سکتے کیونکہ انھیں اس ماہ کے آخر میں پھر عدالت میں پیش ہونا ہے۔
سٹراس کان جو نے اس مقدمے کے دائر ہونے کے بعد عالمی مالیاتی ادارے کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
اس مقدمے سے قبل سٹراس کان کو فرانس کے مئی دو ہزار گیارہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے سوشلسٹ پارٹی کی طرف سے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
پیرس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کرسٹن فریزر کا کہنا ہے کہ قطع نظر اس کے کہ کمرہ عدالت میں کیا ہوتا ہے فرانس میں عام خیال یہی ہے کہ یہ مقدمہ جھوٹا ثابت ہو گا۔
اور اگر یہ مقدمہ واقعی ختم ہو جاتا ہے تو مسٹر سٹراس کان ہی آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں جصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کریں گے۔
سوشلسٹ پارٹی کی طرف سے سابق وزیر اعظم لیونل جوزسپیں کا کہنا ہے اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ ڈومینک سٹراس کان تمام الزامات سے بری ہو جاتے ہیں تو پھر یہ سب سے پہلے ان کا فیصلہ ہو گا کہ انھوں نے صدراتی انتخاب لڑنا ہے یا نہیں اور اس کے بعد یہ فیصلہ سوشلسٹ پارٹی کو کرنا ہو گا۔
سوشلسٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ جین میری لی گوئن کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں سٹراس کان انتخاب میں ضرور حصہ لیں گے اور وہ صدراتی انتخابات میں موزوں ترین امیدوار ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کا عدالتی نظام انھیں بری کر دیتا ہے اور ان کی عزت پوری طرح کر دی جاتی ہے تو ڈومینک سٹراس کان ایک فائٹر ہے اور وہ اپنے ملک میں آ کر لڑیں گے۔
فرانس کے صدارتی انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی آخری تاریخ تیرہ جولائی ہے جبکہ سٹراس کان کے مقدمے کی سماعت اس کے پانچ دن بعد ہونی ہے۔ سوشلسٹ پارٹی کے ایک اعلی اہلکار فرانکس ہولینڈ کا کہنا ہے کہ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ کو بڑھایا جاسکتا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگارکا کہنا ہے کہ سٹراس کان نے عدالت کے سامنے جس وقار اور صبر کا مظاہرہ کیا ہے اس سے فرانس میں ان کے لیے بہت ہمدردی اور عزت پیدا ہو گئی ہے اور ان کے اتحادیوں میں ان کے بارے میں نئی امید نے جنم لیا ہے۔
نیویارک کے جج نے ان پر عائد ضمانت کی سخت پابندیاں نرم کر کے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ وہ ساٹھ لاکھ ڈالر کے مچلکے بھرنے کے بعد کے نیویارک میں نظر بند تھے۔
عدالت میں داخل کئے گیے ایک خط کے مطابق استغاثہ کا کہنا تھا کہ ملازمہ نے گرینڈ جیوری کے سامنے غلط بیانی سے کام لیا تھا اور جان بوجھ کر یہ نہیں بتایا تھا کہ اس نے اپنے ساتھ جنسی زیادتی کے واقع کی اطلاع اپنے سپروائزر کو دینے سے پہلے ایک اور کمرے میں صفائی کی تھی۔
ملازمہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سٹراس کان نے ہوٹل کی لابی میں اس کا پیچھا کیا اور پھر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کو ایک سکیورٹی آفیسر نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملازمہ مبینہ جنسی زیادتی کے واقع کے بعد سے کئی مرتبہ اپنا بیان بدل چکی ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here