آئی ایس آئی کے اعلی حکام لاعلم تھے

Posted by on Jun 01, 2011 | Comments Off on آئی ایس آئی کے اعلی حکام لاعلم تھے

امریکہ کے شہر شکاگو کی عدالت کو ڈیوڈ ہیڈلے نے بتایا ہے کہ بھارت کے شہر ممبئی میں حملوں کے بارے میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اعلی عہدیداروں کو علم نہیں تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکہ میں چلنے والے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ہیڈلے نے کہا پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اعلی حکام کو ممبئی حملوں کا علم نہیں تھا۔ میں صرف آئی ایس آئی کے میجر اقبال سے رابطے میں تھا۔ لیکن مجھے شک ہے کہ ان کے کرنل کو معلوم تھا۔

یاد رہے کہ اس مقدمے میں آئی ایس آئی کے ایک اہلکار میجر اقبال کے علاوہ پاکستانی نژاد امریکی شہری رانا تہور اور کینڈین شہری ڈیوڈ کولمین ہیڈلی شامل ہیں جن پر نومبر دو ہزار آٹھ میں ہونے والے ان حملوں کی سازش اور معاونت کرنے کے الزامات ہیں۔

مقدمے میں پاکستانی نژاد ڈیوڈ کولمین ہیڈلی مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔ استغاثہ کے وکلا کا دعوی ہے کہ ان کے ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اپنی گواہی میں ممبئی حملوں سے متعلق نام پتے اور تاریخیں بتائیں گے۔

الیاس کشمیری کے چند لوگوں نے پہلے ہی سے چیف ایگزیکٹو کی نقل و حرکت پر نظر رکھی ہوئی تھی اور وہ صرف امریکہ میں اسلحہ چاہتے تھے۔

ڈیوڈ ہیڈلے

سماعت کے دوران ہیڈلے نے بتایا کہ پاکستان میں القاعدہ سے روابط رکھنے والے شدت پسند گروپ کے رہنما الیاس کشمیری نے ان سے (ہیڈلے) سے دریافت کیا تھا کہ امریکہ میں بندوقیں حاصل کی جاسکتی ہیں یا نہیں۔ ہیڈلے کے مطابق الیاس کشمیری کی تنظیم لاک ہیڈ مارٹن کے چیف ایگزیکٹو کو قتل کرنا چاہتی تھی۔ یاد رہے کہ یہ کمپنی ڈرون بناتی ہے۔

الیاس کشمیری کے چند لوگوں نے پہلے ہی سے چیف ایگزیکٹو کی نقل و حرکت پر نظر رکھی ہوئی تھی اور وہ صرف امریکہ میں اسلحہ چاہتے تھے۔

ہیڈلے کے بقول الیاس کشمیری پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا تاہم وہ ہلاک نہیں ہوا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق لاک ہیڈ کے حیف ایگزیکٹو کے قتل کے منصوبے پر سسری بات کرتے ہوئے ہیڈلے نے کہا کہ انہوں نے منصوبے کی تحقیق کے لیے رانا تہور کے دفتری کمپیوٹر کو چھپ کر استعمال کیا تھا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ یہ آن لائن تحقیق قابلِ ذکر نہیں تھی

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here